بحیرہ احمر میں حوثی د ھمکیاں انتہائی قابل مذمت، سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کی مکمل حمایت کرتے ہیں ۔
پاکستان کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششیں جاری ، مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی سطح پر آواز اٹھا ئی جاتی رہے گی۔
بھارت، ایک قابض قوت کے طور پر بین الاقوامی قوانین کے تحت انسانی حقوق کے تحفظ کا پابند ہے،
ترجمان دفتر خارجہ امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات جاری ہیں، ٹیرف سے متعلق معاملات ابھی حتمی نہیں ہوئے، طاہر حسین اندرابی کی ہفتہ وار بریفنگ
اسلام آباد (الفجرآن لائن) پاکستان نے یمن کی حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو دی جانے والی دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے اہم ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات۔
علاقائی امن اور تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے منیلا میں عمان، فلپائن، روس، مصر اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
جن میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، علاقائی امن و سلامتی اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوو¿ں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔ترجمان نے بتایا کہ اسحاق ڈارشنگھائی تعاون تنظیم ے وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے۔
جہاں وہ کرغزستان کے صدر سمیت مختلف رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان 2004 سے آسیان ریجنل فورم کا رکن ہے اور منیلا میں منعقدہ 34ویں اجلاس میں بھی بھرپور شرکت کی۔طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب اور
بحیرہ احمر میں کمرشل جہاز رانی کو لاحق خطرات کی مذمت کرتا ہے، کیونکہ ایسے اقدامات خطے کے امن اور عالمی تجارتی سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ یمن کے مسلح گروہوں کے حملے خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
اسی سلسلے میں ایرانی وزیر داخلہ نے پاکستان کا دورہ کیا، جبکہ 18 جولائی کو علاقائی صورتحال پر پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان بھی رابطہ ہوا۔
دفتر خارجہ نے یورپی یونین کی جی ایس پی پلس رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ رپورٹ میں پاکستان کی مجموعی پیشرفت کا مکمل احاطہ نہیں کیا گیا۔
تاہم جی ایس پی پلس دونوں فریقوں کے لیے باہمی طور پر مفید انتظام ہے اور پاکستان یورپی کمیشن سمیت متعلقہ اداروں کے ساتھ مثبت روابط برقرار رکھے گا۔کشمیر کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی سطح پر آواز اٹھاتا رہے گا۔
اور بھارت، ایک قابض قوت کے طور پر، بین الاقوامی قوانین کے تحت انسانی حقوق کے تحفظ کا پابند ہے۔فلسطین کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ اس معاملے پر باہمی رابطے میں ہیں۔
افغانستان سے متعلق سوالات کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ قانونی سفری دستاویزات کے بغیر غیرملکی شہریوں کی واپسی بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے

