امریکہ اور سعودی عرب کے مبینہ جوہری معاہدے پر اسرائیلی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی امریکا سعودی جوہری معاہدہ ہماری قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن سکتا ہے، نفتالی بینٹ ٹھٹھک گئےاس معاہدے کے بعد اسرائیل میں مشرقِ وسطی میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ سے متعلق خدشات جنم لینے لگے،سابق وزیراعظم
تل ابیب (الفجرآن لائن)امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان مبینہ جوہری معاہدے کی اطلاعات پر اسرائیلی حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور سابق اہم عہدیداروں نے بولنا شروع کر دیا ہے ۔
اسرائیل کے سابق وزیرِاعظم نفتالی بینٹ بھی ٹھٹھک گئے اور اس صورتحال پر خبردار کیا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان جوہری معاہدہ ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
اس معاہدے کے بعد اسرائیل میں مشرقِ وسطی میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ سے متعلق خدشات جنم لینے لگے۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس معاہدے کے تحت سعودی عرب کو امریکی ٹیکنالوجی کی مدد سے جوہری ری ایکٹرز تعمیر کرنے اور یورینیئم افزودہ کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
معاہدے کا مقصد سعودی عرب کو پرامن مقاصد کے لیے سول جوہری پروگرام کے قیام میں مدد فراہم کرنا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کی حکومت کے وزرائے دفاع و خارجہ نے تاحال اس معاہدے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اسرائیل کے طویل المدتی سلامتی مفادات کو متاثر کر سکتا ہے۔
سابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینٹ نے کہا کہ اسرائیل کو اعتماد میں لیے بغیر سعودی عرب کے ساتھ ہونے والا جوہری معاہدہ ایک سنگین اسٹریٹجک ناکامی ہے، جو ہماری قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سعودی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی کی اجازت خطے میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ اور خطرناک عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔سابق اسرائیلی وزیر دفاع ایویگڈور لیبرمین نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ اس جوہری پروگرام کے نتیجے میں سعودی عرب کی جوہری ہتھیاروں تک رسائی ممکن ہوگی، جس سے پورے مشرقِ وسطی میں اسلحے کی شدید دوڑ شروع ہونے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل، جسے خطے کی واحد جوہری طاقت تصور کیا جاتا ہے، کو اس معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے امریکی کانگریس پر دبا ڈالنا چاہیے تاکہ اسے روکا جا سکے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری معاہدے پر گزشتہ کئی برسوں سے کام جاری تھا۔اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ اور بعد ازاں سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں بھی کوششیں کی گئیں، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر معاہدہ حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا۔

