سردار عبدالرحمان کھیتران گزشتہ کئی برسوں سے کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں مختلف مواقع پر پنجابی مزدوروں اور مسافروں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے تنظیم کو چیلنج کیا تھا
اسلام آباد(الفجرآن لائن) ممبر بلوچستان اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر سردار عبدالرحمان کھیتران نے تصدیق کی ہے کہ انہیں کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے ایک بار پھر مبینہ طور پر قتل کی دھمکی موصول ہوئی ہے۔سردار عبدالرحمان کھیتران گزشتہ کئی برسوں سے کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے مختلف مواقع پر پنجابی مزدوروں اور مسافروں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے تنظیم کو چیلنج کیا تھا کہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کے بجائے ان کا سامنا کیا جائے۔انہوں نے بتایا کہ وہ ان دنوں اہل خانہ کے ہمراہ گرمیوں کی تعطیلات کے سلسلے میں یورپ کے غیر سرکاری دورے پر ہیں، جہاں ان کے واٹس ایپ نمبر پر ایک ویڈیو اور تحریری پیغام بھیجا گیا۔ ان کے مطابق ویڈیو میں بلوچستان میں ایف سی اہلکاروں پر حملے کا منظر دکھایا گیا جبکہ پیغام میں مبینہ طور پر انہیں دھمکی دیتے ہوئے کہا گیا کہ "جہاں ہو وہیں رہو، ورنہ اگلی بار تمہیں بھی بتائے بغیر قتل کر دیں گےسردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ وہ پہلے بھی ایسی دھمکیوں سے نہیں ڈرے اور اب بھی خوفزدہ نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "میری جو رات قبر میں لکھی ہے، وہ اس سے پہلے نہیں آ سکتی۔ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے، پاکستان تھا، ہے اور رہے گا، اور کوئی بھی اسے پاکستان سے الگ نہیں کر سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ بسوں سے مسافروں کو اتار کر یا مزدوروں کو نشانہ بنانے والے بہادر نہیں بلکہ بزدل ہیں۔ ان کے بقول اگر وطن اور عوام کی حفاظت کرتے ہوئے ان کی جان بھی چلی جائے تو انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ وہ جلد وطن واپس آ کر اپنی سیاسی سرگرمیاں دوبارہ شروع کریں گے

