تحریر: شعبان خان
بلوچستان جو نواب محمد اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد مسلسل بدامنی کا شکار ہے دن بدن اس میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اس کی اصل وجہ یہ بھی ہے کہ نواب بگٹی کی شہادت کے بعد کئی گروپوں نے ازادی کی جنگ کے نام پر چھپ کر دھشت گردی شروع کر دی اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے سب سے بڑے اور ازلی دشمن ہندوستان نےافغانستان کے ذریعے بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں لوگوں کو دہشت گردی کے لیے استعمال کیا اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ گزشتہ سال بھارت کو پاکستان کے ساتھ جنگ میں جو عبرتناک شکست ہوئی تھی اور اس کے تمام منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے تھے
پوری دنیا سے الگ تھلگ ہو کر رہ گیا تھا بدلہ لینے کے لیے اس نے پاکستان میں ایسے لوگوں کو پیسے دے کے استعمال کیا کرنا شروع کیا جنہوں نے بی ایل اے بی ار اے بی ایل ایف وغیرہ وغیرہ کے نام لے کر بے گناہ عوام کو قتل کرنا شروع کیا سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا پہلے پہل پنجابی مزدوروں کے اوپر حملے ہوتے رہے اس کے بعد بڑھتے بڑھتے اپنے بلوچوں کو اپنے پٹھان بھائیوں کو اپنے سیکیورٹی اداروں پر حملے شروع شروع کیے اور بے گناہ معصوم پاکستانی عوام کا قتل شروع کیا جن میں تمام قوموں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے معاشی بدحالی کا شکار نوجوانوں کو لالچ دے کر خودکش حملوں کے لیے مجبور کیا جو انکار کر دیتے تھے ان کو بھی مار دیا جاتا یا ان کے گھروں سے نوجوان لڑکیوں کو اٹھا کر جو کچھ کیا جاتا وہ کئی لڑکیوں نے برملا پریس کانفرنس میں نام لے کر بتایا کہ یہ کون سی ازادی ہے کہ ان کو برہنہ کر کے ویڈیو بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی دھمکی دے کر اپنی مرضی کے کام کرانے پر مجبور کیا جاتا جس میں ازادی کی جنگ سے پہلے ان کے ساتھ جو کچھ کیا جاتا رہا وہ انتہائی قابل مذمت اور شرمناک ہے
جو بلوچستان کے غیرت مند عوام کے لیے ناقابل قبول ہے وہ اس قسم کے لوگوں اور ایسی فعل کے حامل افراد اور ان کے سرپرستوں اور سہولت کاروں سے برملا نفرت کا اظہار کر چکے ہیں ان تنظیموں سے ماضی میں وابستہ نوجوان مسلسل پریس کانفرنسوں کے ذریعے اپنی نفرت کا اظہار کر چکے ہیں یہاں تک کہ بعض وہ نوجوان جو ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہو چکے ہیں وہ بشیر زیب اور اللہ نظر جیسے بھارتی ایجنٹوں کو چیلنج کر چکے ہیں کہ وہ ائیں اور بلوچستان میں حکومت اور ادارے بعد میں پہلے ہم ان سے نمٹیں گے ان سے ایک ایک جوان کے خون کا بدلہ لیا جائے گا کیونکہ وہ بھارت سےبھاری رقم لے کر بیرون ملک عیاشی کر رہے ہیں
جبکہ ہمیں بارود کے ڈھیر میں پھینک دیا ہے اج بلوچستان میں جہاں جہاں یہ لوگ بدامنی پھیلا رہے ہیں وہاں کے لوگ روٹی پانی کو ترس گئے ان کے جوانوں کے پاس کوئی روزگار نہیں وہ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے کیونکہ اگر وہ گھر سے باہر نکلتے ہیں تو یہ دہشت گرد ان کو گولی مار دیتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ سیکیورٹی فورسز مار رہی ہے تاکہ ان نوجوانوں کو ریاست سے بدظن کر کے سیکورٹی اداروں کے خلاف کھڑا کیاجا سکے یہ ہے ان بھارتی ایجنٹوں کی جانب سے ازادی کی جنگ کیسی ازادی کہاں کی ازادی اج بھارت پوری دنیا میں اکیلا کھڑا ہے اس کے ساتھ مسلمانوں کا ازلی دشمن اسرائیل ہے جبکہ افغان طالبان رجیم صرف اور صرف پیسے لے کر دہشت گردوں کو اپنے ملک میں پناہ دے رہا ہے اور وہاں سے سرحد پار دہشت گردی کرا رہا ہے کیونکہ افغانستان کے پاس اس وقت کوئی بھی منصوبہ نہیں معیشت نہیں خواتین کی تعلیم نہیں ترقی کی کوئی راہ نہیں وہ امدن کا کوئی ذریعہ نہیں ان کی آمدنی کاذریعہ صرف دہشت گردوں کو پناہ دینا اور ان کو سپورٹ دے کر پاکستان اور دیگر ہمسائے ملک میں بدامنی پھیلانا ہے بارہا کوششوں کے باوجود افغانستان نے بھارت کی پراکسی ختم کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا اور اب بھی مسلسل بلوچستان میں بدامنی کے واقعات خیبر پختون خواہ کے مختلف علاقوں میں بھی معصوم عوام کا قتل عام جاری ہے سب سے خوشی کی یہ بات ہے کہ جہاں سیکورٹی ادارے ان دہشت گردوں سی نمٹ رہی ہیں وہیں پر خصوصا بلوچستان کے غیرت مند پختونوں نے اسلحہ اٹھا کر ازخود ان کا قلع قمع کرنے کا عزم کر لیا ہے کیونکہ ہرنائی اور زیارت کے واقعات نے ان میں ایک نئی قوت پیدا کر دی ہے کہ اگر دہشت گردوں کو ابھی سے نہ روکا گیا تو یہ بڑھتے بڑھتے پشتون علاقوں میں حالات مزید کشیدہ کر دیں گے اس لیے انہوں نے ان دہشت گردوں کو لگام ڈالنے کا اعلان کر دیا ہے
جس سے نہ صرف یہ لوگ خوف کا شکار ہو گئے ہیں بلکہ اب ان کو یقین ہو گیا ہے کہ اگر وہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں گھستے ہیں تو وہاں کے عوام ان کے سامنے سینہ سپر ہوں گے یہی کچھ اب بلوچ علاقوں میں بھی شروع ہو گیا ہے وہاں بھی بلوچ عوام نے ان دہشت گردوں کو وارننگ دے دی ہے کہ اب سیکورٹی فورسز سے پہلے انہیں ہمارے سامنے ا کر ہمارے بچوں اور جوانوں کے خون کا حساب دینا ہوگا یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے چند لوگوں نے جو وارداتیں کرتے ہیں اور جو بھی قریبی گھر ہوتا ہے اس کے اندر اس کوپناہ دیتے ہیں فورسز چادر اور چار دیواری کا تقدس بحال رکھتے ہوئے ان گھروں میں نہیں جاتی اگر ایک ایک گھر کی تلاشی لی جائے تو ہر اس گھر سے جہاں جہاں ان دہشت گردوں نے اسلحے کے زور پر پناہ لے رکھی ہے ان کو وہیں پکڑ لیا جائے گا
اس کے علاوہ اب ان دہشت گردوں کو ڈرون کیمرے کے ذریعے بھی دیکھا جائے گا کہ وہ کس گھر میں بنا لیتے ہیں اور کون ان کی سہولت کاری کر رہا ہے زیارت اور ہرنائی میں دی جانے والی عظیم قربانیاں بھی ان قربانیوں سے کہیں کم نہیں جتنی قیام پاکستان کے لیے مسلمانوں نے دی تھی وہی قربانیاں اج بھی بلوچستان کے محب وطن پشتون بلوچ اور دیگر قوموں کے افراد دے رہے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ پاکستان اس وقت چاروں طرف سے بری نظروں کا شکار ہے
ایک طرف افغانستان دوسری طرف بھارت پھر امریکہ اور ایران کی جنگ کی وجہ سے حالات کی خرابی وغیرہ ایسی صورتحال میں ملک کو نقصان پہنچانا یقینا ہندوستانی ایجنٹوں کی کارستانیاں ہیں جس کے ہزاروں ثبوت دنیا کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں مگر ان کو پتہ نہیں کہ اب ان کے راستے بند ہو چکے ہیں یہ جہاں سے بلوچستان کے علاقوں میں داخل ہوں گے وہاں عوام خود مقابلے کے علا وہ سیکیورٹی فورسز کو فوری اطلاع دیں گے اور گھیرا کر کے ان کو جہنم واصل کریں گے واپس بھاگنے نہیں دیں گے
زیارت اور ہرنائی میں نو پولیس اہلکار 13 جون کو خضدار کے علاقے نال میں ھندوستانی ایجنٹوں کے حملے میں 37 اہلکاروں کی شہادت ہوئی ستمبر میں سی پیک راہداری پر کہ پاکستان جو اسلام کے نام پر بنا ہے جس کے قیام میں تمام قوموں نے ہر قسم کی قربانی دی ہے اس کو دہشت گردی کے اس ناسور سے پاک کرنے اور وطن عزیز کو عظیم اسلامی ریاست بنانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے اور اس کے راستے میں انے والی ہر رکاوٹ کو مل جل کر ہٹا دیں گے تاکہ ائندہ کوئی بھی ملک دشمن پاکستان کی جانب سے میلی نظر دیکھنے کے قابل نہ ہو اور نہ ہی اس کے ایجنٹ اس پاک ملک میں نظر ائیں فٹ پاتھ پہ بیٹھے ہوئے لوگ جو خود کو بھارتی حمایت یافتہ تنظیم کا سربراہ بتاکر مالی فوائد حاصل کر رہے ہیں
ائندہ اس ملک میں ایسا کوئی نظر نہ ائے کیونکہ اس وقت جہادی تنظیموں کی قیادت کرنے والے اکثر افراد ان کی مالی حیثیت کچھ نہ تھی وہ محنت کرنے سے گریز کرتے تھے ان کا ذریعہ معاش لوٹ کھسوٹ اور چور بازاری تھا ایسے لوگوں نے ببلوچستان میں پروفیشنل سیٹیں حاصل کیں مگر کوئی بھی نہ تو قابل ڈاکٹر بن سکا نہ ہی انجینیئر البتہ ہندو کا سچا ایجنٹ بننے میں کامیاب ہو گیا ان کو شرم انی چاہیےکہ اپنی ماں بہنوں اور گھر والوں کے لیے باہر بیٹھ کر مسائل پیدا کر رہے ہیں لوگ ان افراد کے اہل خانہ سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں اس کی وجہ مملکت نہیں بلکہ یہ خود اور ان کا آقا بھارت ہے تو اس سے اندازہ لگا لیا جائے جو لوگ اپنے والدین کے نہ ہوئے بہن بھائیوں کے نہ ہوئے وہ اس ملک کے کیا ہوں گے وہ تو بکاؤ مال ہیں انہوں نے تو اپنا سب کچھ پیسے کے لیے ہندو کے ہاتھوں میں فروخت کردیا ہے
ان کو کون سی ازادی چاہیے بلوچستان میں ملک پاکستان کے ہر حصے میں ہر شہری ازاد ہے ووٹ دینے میں ازاد ہے نماز پڑھنے میں ازاد ہے کاروبار کرنے میں ازاد ہے تعلیم حاصل کرنے میں ازاد ہے اگر ازاد نہیں ہے تو وہ ان دہشت گردوں کے ہاتھوں باہر جانے سے ازاد نہیں ہے یا یہاں ا کے ان کو بھارت ازادی دے گا یا خدانخواستہ کوئی اور ائے تو ان کو ازادی مل سکتی ہے نہیں ایسے لوگ جو بھتے سے پلتے بڑھتے ہیں وہ ائندہ بھی اسی طرح چندے پہ اور بیرونی امداد پائے گزارا کریں گے انہیں نہ ملک اور نہ صوبے کی ترقی کے لیے کوئی کردار کا ادا کرنا اتا ہے نہ ہی وہ ایسا کر سکتے ہیں نہ یہ ایسا کرنے کی ان میں ہمت ہے وقت کا تقاضا ہے کہ اس ملک سے اس ناسور کو ختم کرنے کے لیے عوام فوج دیگر سیکیورٹی ادارے ان سب کو ایک پیج پر ا کر دشمن کو نیست و نابود کرنا پڑے گا

