کوئٹہ (الفجرآن لائن) وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے قوم پرست رہنماؤں، عسکریت پسند تنظیموں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ اور پشتون قوم پرست رہنما اپنے آپ سے ناراض ہیں اور ان کا نظریہ ایک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل ملک اور عوام کے لیے نہیں بلکہ صرف اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے سیاست کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سردار اختر مینگل نے کبھی کسی پنجابی پاکستانی کے قتل کی مذمت کی ہے؟ میر ضیاء اللہ لانگو کا مزید کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی گاڑی پر پاکستان کا جھنڈا لگاتے ہیں لیکن باتیں افغانستان کی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا وطن افغانستان اور ملک پاکستان ہے، جبکہ دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوتا۔ ہمارا ملک اور وطن دونوں صرف پاکستان ہیں۔
صوبائی وزیر داخلہ نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ دہشت گردوں نے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کی ایمبولینسز تک چرا لی ہیں اور وہ معصوم عوام کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے خود پر ہونے والے ایک حملے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھ پر ناکام حملہ کیا گیا، اگر سامنے سے وار کریں تو ہم جواب دینا جانتے ہیں۔ عسکریت پسند تنظیموں کو ہدف بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کالعدم بی ایل اے (BLA) اور بی ایل ایف (BLF) کے کمانڈرز بلوچستان میں جاری جنگ سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ان کے چند کمانڈرز بھارتی فنڈنگ سے ارب پتی بن چکے ہیں اور انہوں نے دہشت گردی کو اپنا کاروبار بنا رکھا ہے، جبکہ وہ ہمارے نوجوانوں اور خواتین کو اس آگ میں ایندھن کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کا بلوچ روایت اور اقدار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
خارجہ امور اور ہمسایہ ممالک کے کردار پر بات کرتے ہوئے میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ بھارت ایک دہشت گرد ملک ہے جس نے دنیا بھر میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے بھاری بجٹ مختص کر رکھا ہے، جبکہ افغانستان کی سرزمین بھی پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کے مستقبل کے حوالے سے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو گمراہ کن بیانیے سے بچانے کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کر رہی ہے، اور جو لوگ آئین پاکستان کو تسلیم کرتے ہیں ان کے لیے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیمیں اب حقوق کے لیے نہیں بلکہ صرف فنڈنگ اور ریٹنگ کے چکر میں پڑ گئی ہیں۔ ان تنظیموں نے کبھی بھی بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز، غریب مزدوروں اور نہتے عوام پر ہونے والے بزدلانہ حملوں کی مذمت نہیں کی۔

