اسلام آباد (الفجر آن لائن)سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ذاتی کوششوں سے اراکین پارلیمنٹ کے لیے 104 اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف ستمبر میں اراکین پارلیمنٹ کی اضافی رہائش گاہوں کے منصوبے کا افتتاح کریں گے۔ذرائع کے مطابق اس وقت تقریباً 50 اراکین پارلیمنٹ سرکاری رہائش گاہ کی سہولت سے محروم ہیں۔
اراکین کے لیے اضافی رہائش گاہوں کا منصوبہ 2010 میں شروع کیا گیا تھا، تاہم تعمیر میں مسلسل تاخیر کے باعث منصوبے کی لاگت تقریباً 3 ارب روپے سے بڑھ کر 8 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سپیکر ایاز صادق نے وزیراعظم شہباز شریف سے منصوبے کی تکمیل کے لیے خصوصی فنڈز منظور کروائے، جبکہ اب سی ڈی اے منصوبے کو مکمل کرے گا۔
سپیکر قومی اسمبلی نے منصوبہ ہر صورت ستمبر کے پہلے ہفتے تک مکمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔دوسری جانب ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے دو سینیٹرز نے منصوبے کی تکمیل سے چند روز قبل اس کے فرانزک آڈٹ کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال ناصر اور سینیٹر ناصر بٹ مبینہ طور پر شبر زیدی کی فرم سے منصوبے کا فرانزک آڈٹ کرانے کے خواہاں ہیں۔ذرائع کے مطابق چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق بھی سینیٹرز کے اس مطالبے پر حیران ہیں۔
قومی اسمبلی ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے میں کسی قسم کی کرپشن نہیں ہوئی اور اگر ضرورت محسوس کی گئی تو فرانزک آڈٹ منصوبے کی تکمیل کے بعد بھی کرایا جاسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اپنے ہی ساتھی اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے رہائش گاہوں کی فراہمی کے منصوبے کی تکمیل کی مخالفت حیران کن ہے۔پارلیمنٹ لاجز اور پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارات کا انتظامی کنٹرول قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے پاس ہے۔

