ریاض،صنعا(الفجر آن لائن)سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہا ہے کہ اس نے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور جنوبی شہر خمیس مشیط کی طرف داغے گئے بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں تباہ کر دیا۔
حوثیوں نے ریاض اور ابہا ایئرپورٹس کے ساتھ ساتھ خمیس مشیط ایئر بیس کو بھی ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعوی کیا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق یمن میں لڑائی میں شدت کے دوران حوثیوں نے بدھ کی صبح عدن انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائلوں اور دھماکا خیز مواد سے لدے ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
یمنی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق ایک میزائل ایئرپورٹ کے رن وے کے قریب اس وقت گرا جب قاہرہ سے آنے والی ایک پرواز کی لینڈنگ میں چند منٹ باقی تھے۔
حکام نے پرواز کو لینڈنگ سے روک کر جدہ کی جانب موڑ دیا، جبکہ مزید حملوں کے خدشے کے پیش نظر رن وے پر موجود دو طیاروں کو بھی وہاں سے ہٹا دیا گیا۔
عدن ایئرپورٹ یمن کے ان علاقوں کے لیے اہم بین الاقوامی ہوائی رابطہ ہے جو حوثیوں کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے ریاض پر داغے گئے
بیلسٹک میزائل کو فضا میں روک کر تباہ کرنے کا بتاتے ہوئے کہا کہ اتحاد اپنے انٹیلی جنس نظام کے ذریعے صنعا کی فضا میں میزائل لانچ کرنے والے پلیٹ فارم کی نگرانی کر رہا ہے
اور اسے تباہ کر دیا جائے گا۔
ادھر حوثی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحیی سریع نے سعودی عرب کے خلاف متعدد کارروائیاں کرنے کا دعوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو متعدد ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا
جس کے نتیجے میں ان کے بقول ایئرپورٹ پر فضائی آمد و رفت متاثر ہوئی۔
تاہم سعودی حکام نے فوری طور پر ریاض ایئرپورٹ پر حملے کی تصدیق نہیں کی۔
یحیی سریع نے مزید دعوی کیا کہ ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور خمیس مشیط کے ایک ایئربیس کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا اور ان حملوں سے ابہا ایئرپورٹ پر فضائی آمد و رفت متاثر ہوئی جبکہ
خمیس مشیط کے فوجی اڈے کو نقصان پہنچا۔تاہم ان دعوؤ ں کی بھی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
حوثی ترجمان نے دعوی کیا کہ سعودی عرب کے خلاف ایک کارروائی میں الجوف کے فضائی حدود میں سعودی فوج کا CH-4 مسلح جاسوس طیارہ مار گرایا گیا۔
یحیی سریع کے مطابق جیزان اور عسیر میں سعودی فوجی افرادی قوت کی موجودگی والے تین کیمپوں کو بھی بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کے بقول درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے اور متعدد اسلحہ ڈپو جل گئے۔
سعودی حکام کی جانب سے حوثیوں کے ان دعوں پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔یہ حملے یمن میں متعدد محاذوں پر لڑائی میں اضافے کے دوران ہوئے ہیں۔
خبررساں ادارے کے مطابق سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز نے حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائی شروع کی ہے، جنہوں نے حالیہ ہفتوں میں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کی تھی۔یمنی حکومتی فورسز نے سعودی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد کے
ساتھ بحیرہ احمر کے ساحل، باب المندب آبنائے اور المخا شہر کے اطراف میں حوثیوں کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے۔

