اسلام آباد (الجرآن لائن) وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن اور تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیشکش کا حوالہ دیتے ہوئے معاون خصوصی رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے ہیں،
تاہم اس پیشکش کو کسی صورت ریاست کو یرغمال بنا کر سیاسی مطالبات منوانے کا ہتھکنڈہ نہیں بننے دیا جائے گا۔
ریاستی رٹ اور قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پریس کانفرنس کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے گزشتہ روز بھی اپوزیشن اور پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش کی ہے،
حکومت بات چیت کے ذریعے سیاسی معاملات کے حل پر یقین رکھتی ہے، تاہم ریاستی رٹ اور قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ 2014 سے شروع ہونے والی سیاسی کشیدگی کو 12 سال گزر چکے ہیں، پی ٹی آئی مسلسل اسی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے، تاہم سیاسی عدم استحکام کے ذریعے کسی بھی مطالبے کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے، وزیراعظم نے گزشتہ روز بھی اپوزیشن اور پی ٹی آئی کو بات چیت کی پیشکش کی ہے، لیکن ریاست کو یرغمال بنا کر سیاسی مطالبات منوانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 2014 کے دھرنے کے بعد سے اسلام آباد کا گھیراؤ تحریک انصاف کی سیاست کا وطیرہ رہا ہے اور اب ایک بار پھر پی ٹی آئی اسلام آباد پر حملہ آور ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کے تمام وسائل سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا پی ٹی آئی کا بنیادی مقصد سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا رہا ہے اور اسی مقصد کے تحت احتجاج اور اسلام آباد کے گھیراؤ کی سیاست کو آگے بڑھایا جاتا رہا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے سیاست میں گالم گلوچ کا کلچر متعارف کرایا، جس کے باعث ملکی سیاست میں سیاسی رواداری کا ماحول شدید متاثر ہوا۔
تحریک انصاف اپنے ان دونوں مقاصد میں کافی حد تک کامیاب رہی اور سیاسی عدم استحکام کے ساتھ ساتھ سیاسی رواداری کا کلچر بھی کمزور ہوا۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے اور بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ احتجاج اور سیاسی سرگرمی ہر جماعت کا حق ہے، تاہم ریاستی اداروں، عوام کے معمولات زندگی اور ملکی امن و امان کو متاثر کرکے سیاسی مطالباتمنوانے کی کوشش قابل قبول نہیں ہوگی۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایک طرف خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات میں شہید ہونے والے پولیس، کسٹمز، قانون نافذ کرنے والے اداروں،
مسلح افواج اور عام شہریوں کی لاشیں پڑی ہیں جبکہ دوسری طرف صوبائی حکومت ڈھول بجاتی، نعرے لگاتی اور لوگوں کو اکٹھا ہونے کی ترغیب دیتی رہی کہ پہلے یہاں سے وہاں اور پھر اسلام آباد کی طرف جائیں گے۔

