آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے برابر ہے،گزشتہ چند روز میں لاکھوں بیرل تیل آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے، امریکی صدر کی صحافیوں سے گفتگو
واشنگٹن(الفجر آن لائن)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ ایران کو کون چلا رہا ہے؟،
آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے برابر ہے،گزشتہ چند روز میں لاکھوں بیرل تیل آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے۔
میری لینڈ روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کو اب آٹھ ماہ ہو چکے ہیں، ایران کے رہنما مارے جا چکے ہیں،
ان کے لیڈروں کا دوسرا گروپ بھی جا چکا، میرے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ آخر ملک کو کون چلا رہا ہے؟۔
ایران کے لیڈروں کا دوسرا گروپ بھی جا چکا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو امریکی اور اسرائیلی حملے کے پہلے ہی روز 28 فروری کو ختم کیا گیا تھا، ان کے بیٹے مجتبی خامنہ ای نے سپریم لیڈر کا منصب سنبھالا، تاہم وہ بھی حملے میں زخمی ہونے کے بعد سے منظرِ عام پر نہیں آئے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی وزیرِ تیل نے ابھی استعفی دے دیا ہے اور کہا کہ عہدیدار نے ان سے کہا کہ ہماری کوئی معیشت نہیں، ہمارے پاس تیل نہیں، ہمارے پاس کچھ بھی نہیں۔
صدر ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران لاکھوں بیرل تیل آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے۔
ہم تیل کی ترسیل اس سطح پر کر رہے ہیں جو اب جنگ سے پہلے کی سطح کے برابر ہے اور بعض اوقات اس سے بھی تجاوز کر رہی ہے۔
ایک سوال پر صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روسی ہم منصب ولادیمیر سے جلد ہی روس میں ایک لیبارٹری ٹیکنیشن کی طاعون سے مبینہ موت کے حوالے سے بات کریں گے۔
اقوام متحدہ نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے روس سے معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی حکام کی جانب سے اس امر کی تردید کی گئی ہے
کہ وہاں طاعون سے بچا ؤکیلئے اقدامات کیلئے جا رہے ہیں اور پچھلے ہفتے سائبیریا کے علاقے آرکتسک میں واقع طاعون کے ریسرچ سینٹر میں پیش آنے والے واقعے کو زیادہ اہمیت نہیں دی ہے۔

