تہران(الفجر آن لائن)ایرانی خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے سینئر کمانڈر نے ایک بار پھر دعوی کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایرانی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے۔
بریگیڈیئر جنرل شمخال جعفری نے ایرانی سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو میں کہا ایران نے دشمن کو اپنے بحری جہاز اور بحری ساز و سامان ایرانی سرحدوں سے بہت دور تعینات کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ایرانی افواج نے مخالف فریق کا کچھ ساز و سامان مال غنیمت کے طور پر حاصل کیا ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر علی نیک زاد نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے گی یا بند، اس کا فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کھوکھلی سوشل میڈیا پوسٹس نہیں کریں گی۔
ایرانی نائب سپیکر نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کا اندازہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں سے لگایا جا سکتا ہے،
نہ کہ ٹرمپ کی کھوکھلی سوشل میڈیا پوسٹس سے۔ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام نے برسوں پہلے آزادانہ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا تھا اور وہ آج بھی اپنے اس فیصلے پر قائم ہیں،
امریکہ کے مفاد میں ہے کہ وہ ایرانی قوم کی مرضی کو تسلیم کرے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرے۔
علی نیک زاد کا کہنا تھا کہ زمینی حقائق بیانات اور دعووں سے نہیں بلکہ میدان میں طے ہوتے ہیں۔

