اسلام آباد(الفجرآن لائن)سرحدیونیورسٹی ٹی چوک کے باہر فائرنگ کرنے پر حساس ادارے کے ملازم کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا گیا، سٹوڈنٹس سے مذاکرات کرنے اے آئی جی آپریشنز کیپٹن ریٹائرڈ حمزہ ہمایوں پہنچ گئے اور یقین دلایا کہ ملوث افسر کے خلاف سخت کارروائی ہوگی یہ آپ کو حمزہ ہمایوں کی گارنٹی ہے۔
تفصیل کے مطابق ٹی چوک میں واقع سرحد یونیورسٹی میں فائرنگ کے معاملہ پرپولیس نے حساس ادارے کے ملازم کو حراست میں لے کر تھانہ ہمک منتقل کر دیا۔ ملزم یونیورسٹی سٹاف آفس کی ملازمہ کا شوہر تھا۔
انتظامیہ یونیورسٹی کے مطابق طلباء کی فیسوں کے حوالے سے احتجاج کے دوران ملزم اپنی اہلیہ کو ڈراپ کرنے پہنچا، ملزم کی بیوی نے طلباء سے احتجاج ختم کرنے کو کہا،ملزم کی بیوی اور طلباء میں تلخ کلامی شروع ہو گئی،بیوی کے ساتھ طلباء کی تلخ کلامی پر حساس ادارے کا ملازم طیش میں آگیا اورملزم نے طیش میں آکر ہوائی فائرنگ کر دی۔
انتظامیہ یونیورسٹی کے مطابق واقعہ رپورٹ ہونے کے بعد پولیس کی بھاری نفری یونیورسٹی پہنچ گئی۔ انتظامیہ کے طلباء سے مذاکرات کے بعد حساس ادارے کے ملازم کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔
ملزم کی گرفتاری کے بعد طلباء نے اپنا احتجاج ختم کر دیا۔ادھرسٹوڈنٹس سے مذاکرات کرنے اے آئی جی آپریشنز کیپٹن ریٹائرڈ حمزہ ہمایوں پہنچ گئے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن (ر) حمزہ ہمایوں نے کہا کہ اتنی کریڈبیلٹی الحمدللہ ہماری ہے جو بات کریں وہ پوری کریں۔
ہم یہاں اس لیے آئے کہ نہتے بیچارے معصوم بچوں پر فائرنگ کی کال تھی،جس مرضی نے فائر کیا وہ وردی میں تھا سروس میں تھا بریگیڈیر تھا مجھے اس کا نام نہیں پتہ۔
انہوں نے کہا کہ ہم فوج کے قانون کو جانتے ہیں وہ انتہائی سخت قانون ہے،وہ ہمارے سے پہلے ایکٹیویٹ ہونے کے لیے تیار ہیں جس میں کوئی رکاوٹ نہیں،یہ قانون ہر افسر پر آرمی ایکٹ کے تحت لاگو بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملوث افسر کے خلاف سخت کارروائی ہوگی یہ آپ کو حمزہ ہمایوں کی گارنٹی ہے۔

