اسلام آباد (الفجر آن لائن) آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے مرحلے پر سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کو حکومت میں شامل کرنے کی خواہش کو مسترد کرتے ہوئے اپنے بل بوتے پر حکومت بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سیاسی جوڑ توڑ اور ممکنہ حمایت کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد 26 تک پہنچ گئی ہے، جس کے بعد پارٹی آزاد کشمیر اسمبلی کی سب سے بڑی پارلیمانی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے سادہ اکثریت کے ساتھ حکومت تشکیل دینے کی حکمت عملی تیار کرلی ہے اور پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ حکومت سازی کے لیے کسی اتحادی سہارے کی ضرورت نہیں۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی حکومت سازی کے عمل میں شامل ہونے کی خواہش رکھتی ہے، تاہم مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اسے حکومت کا حصہ بنانے سے واضح انکار کردیا گیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے پاس اس وقت آزاد کشمیر اسمبلی میں 12 ارکان موجود ہیں اور پارٹی کی جانب سے صدر ریاست، ڈپٹی اسپیکر اور اپوزیشن لیڈر سمیت اہم عہدوں کے حصول کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل ممتاز راٹھور بھی صدر ریاست کا عہدہ حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں، تاہم مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اس تجویز کو قبول نہیں کیا گیا

