تہران (الفجرآن لائن)ایرانی رہبرِ انقلاب کے سیاسی مشیر محمدباقر ذوالقدر نے کہا ہے کہ جب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اقتدار میں ہیں، ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق محمدباقر ذوالقدر نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش ایرانی قوم کے انتقام کا پہلا مرحلہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ایرانی قوم اپنے وجود، قومی شناخت، آزادی اور اعلیٰ اہداف کے دفاع کے لیے کھڑی ہے۔ایرانی رہنما کے سیاسی مشیر نے مزید کہا کہ ایرانی قوم نے یہ ارادہ کرلیا ہے کہ وہ، ان کے الفاظ میں، "جارح دشمن کے دانت توڑ دے” اور سامراجی قوتوں کو شکست دے۔
محمدباقر ذوالقدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی مؤقف ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیجِ عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والا اہم بحری راستہ ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل کے حوالے سے اسے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
ایرانی حکام کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق سخت بیانات کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر عالمی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے

