اسلام آباد (الفجر آن لائن)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ تہران میں ہونیوالے چارملکی اجلاس کا بڑا مقصد سعودی عرب کے حالات تھے، خیال ہیکہ تہران میں چاروں ملکوں کی ملاقات میں پیشرفت ہوئی ہے۔
ایک انٹرویو میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا افسوسناک بات ہے کہ حوثیوں نے حرمین شریفین پر حملے کرنے کی کوشش کی، معاہدے کے تحت ہم پر بھی سعودی عرب کا دفاع لازم ہے۔
وزیردفاع نے کہا واضح ہوگیا ہے کہ خطے میں امن کیلئے پاکستان کے اقدامات کے ثمرات مل رہے ہیں، فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی قیادت میں پاکستان نے عالمی امن کیلئے کام کیا ہے۔
وزیردفاع نے کہا کہ تہران اجلاس میں امریکا کے ساتھ معاملات پر بھی بات ہوئی ہوگی، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی قیام امن کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، لگتاہیکہ ہم کسی نتیجے پر پہنچ گئے ہیں جس سے جنگ ختم ہوجائے گی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ یہ امکان بھی ہیکہ ایران کی امریکا سے جنگ کے حل سے متعلق نتائج نکل سکیں گے مگر امریکا اور اسرائیل میں انتخابات ہورہے ہیں، سیاسی مقاصد کیلئے جنگیں نہیں ہونی چاہیے۔

