ملک بھر میں 6 کروڑ سے زائد افراد پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں، بینظیر ہنرمند پروگرام کے تحت خواتین اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، چیئرپرسن بی آئی ایس پی
بدین (الفجر آن لائن) چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ بی آئی ایس پی کے تحت مستحق خاندانوں کو فراہم کی جانے والی مالی معاونت خیرات نہیں بلکہ ان کا حق ہے، ملک بھر میں 6 کروڑ سے زائد افراد اس پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں، جبکہ بینظیر ہنرمند پروگرام کے ذریعے مستحق خاندانوں، بالخصوص خواتین اور نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کرکے روزگار کے بہتر مواقع مہیا کیے جائیں گے۔
دورہ بدین کے دوران سینیٹر روبینہ خالد نے سول سوسائٹی کی خواتین نمائندگان اور مقامی بلدیاتی نمائندوں سے ملاقات کی، ان کے مسائل اور تجاویز سنیں اور بی آئی ایس پی کے مختلف اقدامات سے آگاہ کیا۔ بعد ازاں ڈپٹی کمشنر آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کے مطابق بی آئی ایس پی شفاف انداز میں کام کر رہا ہے اور پروگرام کی باقاعدہ نگرانی کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی پر بے جا تنقید کرنے والے بعض اداروں اور جماعتوں کے چندہ جمع کرنے کے نظام میں آڈٹ اور جوابدہی کا مؤثر نظام موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی شناختی کارڈ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا عوام کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے۔ بی آئی ایس پی کی بدولت خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں بڑی تعداد میں خواتین نے قومی شناختی کارڈ بنوائے اور پروگرام میں رجسٹریشن کرائی ہے۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے بتایا کہ خواتین کو مزید بااختیار بنانے کے لیے بینظیر ہنرمند پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت مستفید خاندانوں، بالخصوص خواتین اور نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ روزگار کے بہتر مواقع حاصل کرکے معاشی طور پر خودمختار بن سکیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بینظیر تعلیمی وظائف پروگرام سے ایک کروڑ 20 لاکھ بچے جبکہ بینظیر نشوونما پروگرام کے تحت 22 لاکھ خواتین مستفید ہو رہی ہیں۔
سینیٹر روبینہ خالد نے سول سوسائٹی کی خواتین نمائندگان سے ملاقات کے دوران ان کی شکایات اور مسائل بھی سنے اور متعلقہ افسران کو ترجیحی بنیادوں پر ان کے حل کی ہدایت کی۔
ڈیجیٹل والٹ نظام سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ون لنک (1LINK) کے ذریعے انٹرآپریبلٹی کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس کے تحت خواتین کسی ایک بینک یا علاقے تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ ملک بھر میں شریک بینکوں کے مجاز ریٹیلرز سے اپنی رقوم وصول کرسکیں گی۔ ان کے مطابق اس نظام سے ادائیگیوں میں شفافیت، سہولت اور مالی شمولیت کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر اراکین صوبائی اسمبلی حاجی تاج محمد ملاح، میر اللہ بخش ٹالپر، ارباب امان اللہ، تنزیلہ ام حبیبہ قمبراں اور بی بی یاسمین شاہ سمیت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کاشف رضا منگی، ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر سرفراز سموں، بی آئی ایس پی افسر عبدالقدیر مہیسر، سول سوسائٹی اور بلدیاتی نمائندگان بھی موجود تھے۔

