راولپنڈی(الفجرآن لائن)تحریک انصاف کے سابق چیئرمین کی ہمشیرہ علیمہ خانم نے بانی پی ٹی آئی کے علاج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری پریس ریلیز کے بعد اگر پہلے انجکشن پر ان کی آنکھ 90 فیصد ٹھیک ہوگئی تھی تو انہیں پانچواں انجیکشن کیوں لگایا گیا انہیں مسلسل تنہائی میں رکھا جا رہا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر اپنے وکیل محمد فیصل ملک کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں کیا انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو دو روز قبل جیل سے نکالے جانے کے معاملے پر بیرسٹر گوہر سے میری بات ہوئی ہے انہوں نے کہا ہے نہ تو بانی کو پمز ہسپتال میں منتقل کیا گیا اور نہ ہی ان کی ملاقات ہوئی ہے
کسی سے، جہاں تک بانی پی ٹی آئی کو جیل سے نکالے جانے کی بات ہے تو اس بات کی تصدیق کی جا رہی ہے کہ ان کو نکالا ضرور گیا تھا لیکن واپس بھی منتقل کر دیا وہاں جیل کے قریب لوکل لوگوں سے بھی بات ہوئی ہے انہوں نے ایسا کچھ نہیں دیکھا انہوں نے کہا کہ یہ کیا خفیہ طور پر بانی کو جیل سے نکالا جاتا ہے اور خفیہ طور پر منتقل کیا جاتا ہے
انہوں نے کہا کہ اب پانچواں انجیکشن انہیں لگا دیا گیا ہے یہ کس چیز کا انجیکشن تھا حالانکہ انہوں نے تو سرکاری طور پر پہلے انجیکشن کے بعد ہی کہہ دیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی 90 فیصد آنکھ ٹھیک ہو گئی ہے اگر 90 فیصد آنکھ ٹھیک ہوتی تو یہ پانچواں انجکشن کیوں لگایا گیا انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے تو علاج سے متعلق پہلے ہی کہہ دیا تھا انہیں ساری ٹریٹمنٹ خفیہ طور پر دی جا رہی ہے فیملی کو نہیں بتایا جا رہا بس ایک پریس ریلیز جاری کر دی جاتی ہے
انہوں نے کہا کہ ان کے علاج سے متعلق ہمیں تشویش ہے ان کا علاج کسی سپیشلسٹ کے ذریعے ہونا چاہئے پتہ نہیں کن اناڑی ڈاکٹروں سے علاج کروایا جا رہا ہے اسی لئے تو ہم کہہ رہے ہیں فیملی کہہ رہی ہے کہ انہیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں منتقل کیا جائے لیکن انہیں مسلسل آئیسولیشن میں رکھا جا رہا ہے اسی لئے اپوزیشن لیڈر سے کہا تھا کہ وہ پریشر ڈالیں تاکہ بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لئے باہر منتقل کیا جائے انہوں نے کہا محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ 10 ہزار کارکنوں کو جیل لائیں گے تاہم کوئی بیٹھے نہ بیٹھے ہم تو بہنیں ہیں ہم تو بیٹھیں گے
