اسلام آباد (الفجرآن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ٹیکس چوری اور اثاثے چھپانے کے خلاف سخت اقدامات کی تجاویز منظور کر لیں۔ کمیٹی نے آڈٹ نہ کرانے، غلط معلومات فراہم کرنے اور قابلِ ٹیکس اثاثوں کو چھپانے پر جرمانوں کی حد میں نمایاں اضافہ کرنے کی تجاویز کی منظوری دے دی۔ کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ:آڈٹ نہ کرانے پر جرمانہ 25 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کر دیا جائے۔غلط معلومات دینے پر بھی جرمانہ 25 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کیا جائے۔ قابلِ ٹیکس اثاثوں کو چھپانے پر جرمانہ ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر پانچ لاکھ روپے کرنے کی تجویز منظور کر لی گئی۔ایف بی آر حکام نے بتایا کہ جرمانہ 5 لاکھ روپے یا ٹیکس کی شارٹ فال کے 100 فیصد کے برابر ہوگا، جو بھی زیادہ ہو۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جرمانہ اس شخص پر ہی عائد کیا جائے گا جس کے اثاثے چھپائے گئے ہوں۔ اجلاس کے دوران ممبر ٹیکس پالیسی آفس نے متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ "قابلِ ٹیکس اثاثوں کو چھپانا قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم ہے”۔ اس بیان پر قائمہ کمیٹی کے اراکین نے زوردار قہقہ لگایا۔ممبر قائمہ کمیٹی جاوید حنیف خان نے فوری ردعمل دیتے ہوئے پوچھا کہ یہ قتل سے بھی سخت جرم کیسے ہو گیا جس پر ممبر ٹیکس پالیسی آفس نے جواب دیا کہ ادب میں یہی لکھا ہے کیونکہ یہ قوم کے خلاف جرم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آمدن یا اثاثے چھپانے کا ثبوت دینے کی ذمہ داری ایف بی آر پر ہوگی، جو عدالتوں میں بھی ایسا ہی کرتا ہے۔کمیٹی نے بالآخر قابلِ ٹیکس آمدن اور اثاثے چھپانے پر 5 لاکھ روپے جرمانے کی تجویز بھی منظور کر لی۔
