اسلام آباد (الفجر آن لائن)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے ایف بی آر حکام اور ممبر ٹیکس پالیسی حامد عتیق نے بتایا کہ ملک کی دو بڑی ملٹی نیشنل سگریٹ کمپنیاں 365 ارب روپے کا ٹیکس ادا کر رہی ہیں جبکہ چھوٹی رجسٹرڈ کمپنیاں صرف 5 ارب روپے ٹیکس دے رہی ہیں۔
حامد عتیق نے بتایا کہ سگریٹ کی ایک ڈبی کی تیاری لاگت 30 سے 35 روپے ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں ایک ڈبی پر کم از کم 101 روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور 19 روپے سیلز ٹیکس ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس چور غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی کارخانے 35 روپے کی ڈبی پر کوئی ٹیکس نہیں دیتے اور بڑا منافع کماتے ہیں۔
ان غیر قانونی کارخانوں کی وجہ سے دو بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔حامد عتیق نے واضح کیا کہ سگریٹ میں تیسرا ٹیئر متعارف نہیں کرایا جا سکتا۔ سال 2017 میں تھرڈ ٹیئر لانے کے تجربے کے نتیجے میں سیکنڈ ٹیئر ختم ہو کر رہ گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے اعتراضات کی وجہ سے مشہور برانڈز کے سستے ورڑن نچلے ٹیئر میں نہیں لائے جا سکتے ہیں۔حامد عتیق کے مطابق پاکستان میں اسمگل شدہ سگریٹ مارکیٹ کا صرف تین فیصد حصہ ہے۔
افغانستان کے ساتھ بارڈر بند ہونے سے اسمگلنگ روکنے میں کامیابی کے نتیجے میں پانچ فیصد ٹیکس چوری رک گئی ہے۔ تاہم ٹیکس چوری کا سب سے بڑا حصہ مقامی غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈ سگریٹ کارخانوں کا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمیٹی کو بتایا کہ سگریٹ سازی پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم سال 2021 سے ایک کمپنی کے پاس ہے اور وہ ہی یہ کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ٹیکس چور کارخانوں پر چھاپوں سے کئی حلقے ناراض ہیں۔
وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ سگریٹ سازی کے خام مال ایسیٹیٹ ٹو (Acetate Tow) پر ڈیوٹی 44 ہزار سے کم کر کے 10 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل زیادہ ڈیوٹیوں کی وجہ سے کمپنیوں کے فنڈز پھنسے ہوئے تھے۔
پاکستان کی دو بڑی ملٹی نیشنل سگریٹ کمپنیاں ایف بی آر کی کارکردگی کو سراہتی ہیں۔ ان کمپنیوں نے ٹیکس ادائیگیوں میں شفافیت کو سراہا۔حامد عتیق نے بتایا کہ پاکستان سعودی عرب میں سگریٹ برآمد کر رہا ہے۔
کمیٹی کے اجلاس میں ٹیکس چوری روکنے، غیر قانونی کارخانوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے اور ریونیو بڑھانے کے لیے مزید اقدامات پر غور کیا گیا۔
ایف بی آر حکام نے یقین دلایا کہ ٹیکس نیٹ کو مزید وسیع کرنے اور چوری روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
