کوئٹہ (الفجرآن لائن) گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہے کہ صوبہ بلوچستان ہائیر ایجوکیشن سیکٹر میں ایک تعلیمی انقلاب کی جانب گامزن ہو چکا ہے۔ ہم نے بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے ذریعے میڈیکل ایجوکیشن میں تبدیلی کا آغاز کر دیا۔ جس کا ہدف سالانہ 10,000 میڈیکل پروفیشنلز اور میڈیکل ٹیکنیشنز تیار کرنا ہے۔ فی الحال، یہ اقدام بولان میڈیکل یونیورسٹی شروع کیا گیا ہے، جو مکمل طور پر میڈیکل ایکسیلینس کیلئے وقف ہے۔ ہم اس وژن اور ماڈل کو جلد ہی صوبے کی دیگر پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں تک پھیلانے کیلئے پر عزم ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بولان میڈیکل یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد لہڑی سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے روزگار کے مواقع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ میڈیکل سیکٹر میں اس وقت بھی بیرون ملک ہزاروں ملازمتوں کی مانگ ہے۔ مستقبل کا منصوبہ تعلیمی ڈگریوں کے ساتھ ڈپلومہ پروگراموں کو مربوط کرنا ہے جو موجودہ وسائل پر دبا نہیں ڈالیں گے۔ یہ گریجویٹس سرکاری نوکریوں کی تلاش میں بھٹکنے کی بجائے اپنی دہلیز پر روزگار کے مواقع حاصل کریں گے اور قومی ترقی اور پیشرفت میں براہ راست حصہ ڈالیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے روشن دماغوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرکے، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ وہ بلوچستان کے لوگوں کی خدمت اور عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہوں۔ یہی مہارت یافتہ افراد اندرون اور بیرون ملک معاشی آزادی حاصل کریں گے۔ ہم روایتی تعلیمی ماڈلز سے آگے بڑھ رہے ہیں اور انہیں صنعت سے متعلقہ مہارتوں کے ساتھ مربوط کر رہے ہیں جو آج کی معیشت کی بنیاد ہیں۔ گورنر مندوخیل نے جگہ اور صلاحیت میں موجودہ رکاوٹوں کو تسلیم کیا لیکن یقین دلایا کہ عزم اور محتاط منصوبہ بندی کے ساتھ، ایک سال کے اندر ان پر بھی قابو پا لیا جائیگا۔ یہ صرف ایک خواہش نہیں ہے، بلکہ ایک روشن مستقبل کیلئے ایک ٹھوس منصوبہ ہے۔ ایک بار تربیت حاصل کرنے کے بعد، یہ ہنر مند پیشہ ور جدید معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بنیں گے اور مجموعی طور پر معاشرے کو مضبوط کریں گے۔ صوبہ میں تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے چانسلر کی حیثیت سے یہ ان کا عزم ہے کہ وہ فارغ التحصیل طلبا کی لامحدود امکانات سے بھرپور مستقبل کی طرف فکری رہنمائی کریں
