کوئٹہ( الفجرآن لائن) ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کا مرکزی کابینہ اور سپریم کونسل کا مشترکہ اجلاس صدر ڈاکٹر حئی بلوچ کی قیادت میں منعقد ہوا، جس میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب گردی کے دلخراش واقعے کے خلاف جاری احتجاجی تحریک، صوبے بھر کی صورتحال اور آئندہ لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ترجمان اجلاس کے شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتی بے حسی اور غیر سنجیدہ رویے نے ڈاکٹرز کے تحفظات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اس موقع پر یہ بھی واضح کیا گیا کہ حکومت بلوچستان کی جانب سے محکمہ صحت کو ترجیحات میں شامل نہ کرنے کے باعث طبی عملہ شدید عدم تحفظ اور اضطراب کا شکار ہے۔
واضح رہے کہ کوئٹہ سمیت صوبہ بھر میں او پی ڈیز کی مکمل بندش جاری ہے، جبکہ سول ہسپتال کوئٹہ میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے قائم احتجاجی کیمپ بھی مسلسل فعال ہے۔
اجلاس میں متفقہ طور پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ڈاکٹرز کے مطالبات کی منظوری تک احتجاجی تحریک ہر صورت جاری رہے گی اور کسی بھی دبا یا حکومتی غفلت کے سامنے خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان حکومت بلوچستان سے مطالبہ کرتی ہے کہ سیکریٹری ہیلتھ بلوچستان اور ایم ایس سول ہسپتال کو فوری طور پر عہدوں سے برطرف کیا جائے اور ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر حملے کی شفاف، غیر جانبدار اور بااختیار تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔
ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ڈاکٹرز سیکیورٹی ایکٹ فوری طور پر نافذ کیا جائے۔اجلاس میں آئندہ احتجاجی حکمت عملی کے تحت درج ذیل فیصلے کیے گئے:* 29 جون بروز سوموار گرینڈ ڈاکٹرز کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں صوبے بھر کے ڈاکٹرز، طبی تنظیمیں اور نمائندگان شرکت کریں گے۔* 30 جون بروز منگل سول ہسپتال کوئٹہ سے ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی جائے گی، اور اسی روز صوبہ بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے
