پاکستان بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حالات کی خرابی اور بد امنی کی وجہ سے کہیں پر بھی حکومت کی رٹ نہیں رہی حالات ایسے ہیں کہ لوگ اپنے علاقوں میں نہیں جاسکتے
ملک کو چلانے والے تمام صورتحال سے واقف ہیں اور وہ طاقت سے مسائل کا حل چاہتے ہیں طاقت سے کبھی مسائل نہیں ہوسکتے ہمارے پاس اسٹریٹ پاور ہے،کوئٹہ مےں پریس کانفرنس
حالات کی بہتری کو ممکن بناتے ہوئے ملک اور قوم کو اس بحرانی کیفیت سے نکالنے کے لئے ہم ملک گیر سطح پر آل پارٹیز بلائیں گے مارشل لاءکے دور میں 1973ءکے آئین میں ترامیم کرکے اس کا حلیہ بگاڑ دیا گیا
کوئٹہ (الفجرآن لائن) جمعیت علماءاسلام کے سربراہ رکن قومی اسمبلی مولانافضل الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حالات کی خرابی اور بد امنی کی وجہ سے کہیں پر بھی حکومت کی رٹ نہیں رہی ۔ حالات ایسے ہیں کہ لوگ اپنے علاقوں میں نہیں جاسکتے ملک کو چلانے والے تمام صورتحال سے واقف ہیں اور وہ طاقت سے مسائل کا حل چاہتے ہیں طاقت سے کبھی مسائل نہیں ہوسکتے حالات کی بہتری کو ممکن بناتے ہوئے ملک اور قوم کو اس بحرانی کیفیت سے نکالنے کے لئے ہم ملک گیر سطح پر آل پارٹیز بلائیں گے کیونکہ ہمارے پاس اسٹریٹ پاور ہے مارشل لاءکے دور میں 1973ءکے آئین میں ترامیم کرکے اس کا حلیہ بگاڑ دیا گیا ملک اور قوم کو صحیح سمت پر لے جانے اور جمہوریت کے استحکام پارلیمنٹ ، عدلیہ اور میڈیا کی آزادی کیلئے آئین پر عملدرآمد کے ذریعے ہی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو جمعیت علماءاسلام بلوچستان کے امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری، صوبائی جنرل سیکرٹری آغامحمود شاہ ،مولوی کمال الدین، ملک سکندر خان ایڈووکیٹ ، اراکین صوبائی اسمبلی میر زابد ریکی، قادر مندوخیل ،سید ظفر آغا، محمد نواز کاکڑ، مولانا عبدالرحمن رفیق ، سردار یحییٰ خان ناصرسمیت دیگر بھی موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخوا میں سنگین حالات کی وجہ سے حکومت کی رٹ کہیں نظر نہیں آرہی جس کی وجہ سے صوبوں اور لوگوں میں اضطراب پایا جاتا ہے اور مسلح لوگ سرعام د ندناتے پھر رہے ہیں ان حالات کا ملک کو چلانے والوں کو بخوبی علم ہے لیکن حالات کو بہتر نہیں بنارہے اس کی کیا وجہ ہے کچھ نہیں کہا جاسکتا انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے مسائل بڑھتے جارہے ہیں اور عوامی نمائندوں سمیت عوام میںاضطراب پایا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ صوبوں کے بعد اب کشمیر کی صورتحال بھی ابتر ہورہی ہے ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر رہاہے حکومت اور متعلقہ حکام کی جانب سے اس پر کوئی بات نہیں کی جارہی کہ سیاسی قیادت کوئی کردار ادا کرے انہوں نے کہا کہ قومی پالیسی کے لئے مشاورت ناگزیر ہے اس صورتحال میں کشمیر کی صورتحال بھی بہتر نہیں ہے کشمیر کے عوام ہمیں آواز دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبے بنانا انتظامی معاملات ہیںکیا ملک اس بات کا متحمل ہے اور حالات نارمل ہےں کہ نئے صوبے بنائے جائیں؟ نئے صوبے انڈیا اور دیگر میں بھی بن رہے ہیں ہمیں بھی انتظامی ساخت کو دیکھنا ہے محسن نقوی قبل از وقت بالغ ہوگئے ہیں یہ بات انہوں نے ذاتی حیثیت میں کی ہے یا کابینہ کے ممبر وزیر اعظم کی ایماءپر یا ان کی آشیر باد سے اس کی وضاحت ہونی چاہئے انہوں نے کہا کہ ہم نے فاٹا کے انضمام کے موقع پر بھی اس کی مخالف کی تھی کہ اس کو صوبہ بنایا جائے یا انضمام کیا جائے لیکن ہماری بات کو غلط رنگ دیا گیا سیاسی مستقبل کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے لیکن ہم عوام کی بجائے اپنی مرضی تھونپ رہے ہیں پہلے ہی ملک اور قوم بدامنی اور مسائل کے گرداب میں گرا ہوا ہے اس طرح کی بات کرنا اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔ یہ مسئلہ اتنا آسان نہیں کہ اس پر ہاتھ ڈالا جائے یہ ملک اور قوم کا مسئلہ ہے اور ان کی شناخت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عوام سے پوچھا جائے کہ وہ نیا صوبہ چاہتے ہیں یا نہیں؟صوبے بنانا آسان نہیں کہ کیک کی طرح کاٹ کر نیا صوبہ بنایا جائے ایسی صورت میں عوام کا ردعمل آنا باقی ہے ہر فیصلہ مشاورت سے ہونا چاہیے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر ہیں ان کو مشورہ دیتا ہوں کہ اپوزیشن کا اجلاس بلایا جائے جس میں تمام نمائندے شریک ہوں کیونکہ وہ صرف ایک علاقے کے لیڈر نہیں ہیں ۔ دنیا میں سارے نظام ناکام ہوچکے ہیں جمہوریت اور آمریت سمیت کیمونزم اور مغرب کی پالیسی ، مشرق کی آمریت اور عسکریت بھی دونوں ناکام ہوچکی ہیں۔ پاکستان میں سیاستدانوں کو موقع نہیں دیاگیا ملک کو آئین کے مطابق چلایا جائے یہاں پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہوچکی ہے تمام مسائل کا حل آئین پر عملدرآمد میں ہے ہم پر جبری طور پر حکومت مسلط نہیں ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ محسن نقوی کابینہ کے ممبر ہیںوہ اگر سمجھتے ہیں کہ نظام ناکام ہوچکا ہے تو مستعفی کیوں نہیں ہوجاتے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مارشل لاءکے دور میں آئین کا حلیہ بگاڑا گیا اور اپنے مفاد کو مد نظر رکھ کر ترامیم کی گئی جمعیت علماءاسلام نے 26 ویں ترمیم سے متعلق حکومت سے مذاکرات کئے اور 34 شقوں سے انہیں دستبردار کراکر آئین میں ترمیم کی گئی اور اب 27 ویں ترمیم کے بعد 28 ویں ترمیم میں کیا لارہے ہیں پارلیمنٹ کھلونا نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ اسے اختیارات دےکر عوام کی نمائندہ پارلیمنٹ بنانا چاہئے اس حوالے سے آئین کی عملداری اور پارلیمنٹ کی بالادستی اور سمیت میڈیا ، عدلیہ کی آزادی کیلئے جمعیت علماءاسلام اپنی جدوجہد جاری رکھے گی ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جمعیت علماءاسلام حکومت کا حصہ نہیں بنے گی عوام کی توقعات آج بھی جمعیت علماءاسلام سے وابستہ ہے نوجوانوں کے اپنے جذبات ہوتے ہیں نئے چہرے فلموں کے اصطلاح ہے سیاست میں نہیں اس لئے نوجوانوں کی بجائے سیاستدانوں میں تجربہ کی وجہ سے زیادہ بصیرت ہوتی ہے اور وہ پالیسی بناتے وقت جذبات کی بجائے حقیقت کو مد نظر رکھتے ہیں نوجوانوں کو وقت ضائع کئے بغیر اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہئے کیونکہ ان سے ہماری امیدیں وابستہ ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے ملاقات ہوئی تھی وہ ہمارے مہربان اور دوست ساتھی ہے وہ وزیر اعلی بن رہے یا نہیں اسکا علم نہیں ہے۔

