کوئٹہ(الفجرآن لائن) چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت صوبائی دارالحکومت میں ایک اہم ڈپٹی کمشنرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں صوبے بھر کے انتظامی امور، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل کے حل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کانفرنس کے دوران چیف سیکرٹری نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ صوبے بھر میں عوام کی فلاح و بہبود اور انہیں بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ انہوں نے تاکید کی کہ پانی، صحت، تعلیم اور سڑکوں کی تعمیر جیسے بنیادی ڈھانچے کی بہتری صوبائی حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہے، اس لیے تمام جاری ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ وقت کے اندر تیز رفتاری سے مکمل کیا جائے۔
اجلاس کو صوبے میں جاری ترقیاتی کاموں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بی ایس ڈی آئی کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے تحت کل 4,047 ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے تھے، جن میں سے تقریباً 90 فیصد منصوبے کامیابی سے مکمل کیے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن سیکشن کے تحت 516 منصوبوں کی تکمیل کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔ چیف سیکرٹری نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مؤثر اور فعال بنایا جائے تاکہ باقی ماندہ منصوبوں کو بھی جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے صوبے میں مالیاتی امور کو بہتر بنانے کے لیے زرعی انکم ٹیکس کی سو فیصد کلیکشن کو یقینی بنانے کا بھی حکم دیا۔
عوامی ریلیف اور شکایات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شکیل قادر خان نے کہا کہ افسران عوام کی خدمت کے لیے ہر وقت حاضر رہیں اور اپنے متعلقہ محکموں کو عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے متحرک کریں۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلے ایک ماہ کے دوران صوبے میں 53 کھلی کچہریاں منعقد کی جا چکی ہیں، جن میں درج ہونے والی شکایات پر فوری کارروائی کی جائے۔ انہوں نے اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت نگرانی اور گرانفروشوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی تاکہ عوام کو منظم طریقے سے ریلیف مل سکے۔ مزید برآں، صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر بارودی مواد اور مخصوص فرٹیلائزرز کی فروخت اور نقل و حمل پر 15 روز کے لیے پابندی عائد کر دی گئی ہے اور چیف سیکرٹری نے اس دوران تمام حفاظتی قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کرانے کا حکم دیا ہے۔

