جے ایف-17 تھنڈر اور ایف-16 طیاروں کی فارمیشن نے ایرانی صدر کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں خوش آمدید کہا
پاکستان اور ایران کے برادرانہ تعلقات کی خوبصورت عکاسی، اعلیٰ سطحی دورے کے دوران فضائیہ کی منفرد روایت برقرار
خطے میں امن، دوستی اور تعاون کا پیغام، ایرانی صدر کے استقبال کے لیے پاک فضائیہ کا خصوصی فضائی اسکواڈ
اسلام آباد(الفجرآن لائن) ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستان فضائیہ نے روایتی مہمان نوازی اور پیشہ ورانہ مہارت کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے ان کا فضائی حدود میں خصوصی استقبال کیا۔پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے کے بعد ایرانی صدر کے خصوصی طیارے کو پاکستان فضائیہ کے جنگی طیاروں کے خصوصی اسکواڈ نے سلامی دی اور اسے بحفاظت اسلام آباد تک ایسکارٹ کیا۔ اس موقع پر پاک فضائیہ کے جدید جنگی طیاروں پر مشتمل چھ طیاروں کی خصوصی فارمیشن نے ایرانی صدر کے طیارے کے گرد حفاظتی حصار قائم کرتے ہوئے ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔استقبالی فارمیشن میں پاکستان فضائیہ کے جدید جے ایف-17 تھنڈر اور ایف-16 جنگی طیارے شامل تھے، جو پاکستان کی فضائی دفاعی صلاحیتوں، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔
فضائی فارمیشن کے لیڈر نے ایرانی صدر کو خوش آمدید کہتے ہوئے وزیراعظم پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر دونوں برادر ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات، دوستی اور باہمی احترام کو بھی اجاگر کیا گیا۔حکام کے مطابق ایران کے صدر کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان مضبوط، دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔ یہ دورہ نہ صرف سیاسی اور سفارتی روابط کو مزید مستحکم بنانے کا ذریعہ بنے گا بلکہ دفاعی تعاون، اقتصادی شراکت داری اور علاقائی تعاون کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
پاکستان فضائیہ کی جانب سے اعلیٰ شخصیات اور معزز عالمی رہنماؤں کے استقبال کی ایک دیرینہ اور باوقار روایت موجود ہے۔ ایرانی صدر کے اعزاز میں خصوصی فضائی اسکواڈ کی تعیناتی اسی روایت کا تسلسل ہے جو پاکستان کی مہمان نوازی، پیشہ ورانہ عسکری صلاحیت اور دوست ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق جے ایف-17 تھنڈر اور ایف-16 طیاروں کی مشترکہ فارمیشن پاکستان فضائیہ کی جدید جنگی صلاحیتوں اور فضائی دفاعی استعداد کا عملی اظہار ہے، جو ملکی فضائی حدود کے مؤثر تحفظ کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کے رہنماؤں کو اعلیٰ سطح کا پروٹوکول فراہم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا یہ دورہ پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، دفاعی و اقتصادی تعاون بڑھانے اور خطے میں امن، استحکام، دوستی اور مشترکہ ترقی کے فروغ کے عزم کا اعادہ قرار دیا جا رہا ہے۔اس شاندار فضائی استقبال نے ایک بار پھر پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے برادرانہ روابط، باہمی اعتماد اور خطے میں امن و تعاون کے مشترکہ وڑن کو اجاگر کیا ہے
