متاثرہ خواتین کا دعویٰ، ملزمان نے اغوا کر کے رقم کا مطالبہ کیا اور دھمکیاں دیں؛ ایس ایچ او ڈیفنس سی معطل، سیاسی دباؤ نظرانداز کر کے کارروائی کی گئی: پولیس
لاہور(الفجر آن لائن) لاہور میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے مقدمے میں نامزد ملزمان میں سے ایک کو ایک اعلیٰ حکومتی شخصیت کا رشتہ دار قرار دیا ہے، جبکہ بازیاب ہونے والی خواتین کے بیانات بھی مجسٹریٹ کے روبرو دفعہ 164 کے تحت قلمبند کروا دیے گئے ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ خواتین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی محمد رضا ڈار سے 2025 میں ملاقات ہوئی تھی اور انہی کے ذریعے پاکستان کے ویزے بھجوائے گئے تھے۔ خواتین نے الزام عائد کیا کہ محمد رضا ڈار سمیت پانچ افراد نے انہیں اغوا کیا۔ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزمان میں سے ایک نے بادامی، ایک نے سیاہ جبکہ ایک نے نیلے رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے۔
متاثرہ خواتین کے مطابق محمد رضا ڈار اور اس کے ساتھی انہیں مسلسل ڈراتے رہے اور ان سے رقم کا مطالبہ بھی کرتے رہے۔پولیس نے مقدمہ اغوا اور مبینہ زیادتی کی دفعات کے تحت تھانہ ڈیفنس سی میں درج کر رکھا ہے۔
دوسری جانب، بازیاب غیر ملکی خواتین نے مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت اپنے بیانات بھی ریکارڈ کرا دیے ہیں، جن میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان تاوان نہ دینے کی صورت میں انہیں دھمکیاں دیتے رہے۔ادھر، واقعے میں بروقت کارروائی نہ کرنے پر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے تھانہ ڈیفنس سی کے ایس ایچ او فریاد کو معطل کرتے ہوئے فوری طور پر پولیس لائن رپورٹ کرنے کا حکم جاری کر دیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر سیاسی دباؤ کو نظرانداز کرتے ہوئے بلاامتیاز کارروائی کی گئی، جبکہ ایک سیاسی شخصیت کے رشتہ دار کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔

