کوئٹہ (الفجر آن لائن) بلوچستان کی سیاسی قیادت نے نوشکی کے علاقے کلی مینگل آباد میں ایک گھر میں گھس کر ماں بیٹی کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد عناصر اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے عام شہریوں، خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے، امن کے قیام اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولہ، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی اور وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشیر مینا مجید بلوچ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوشکی واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
مینا مجید بلوچ نے کہا کہ دہشت گردوں نے کلی مینگل آباد میں 50 سالہ بی بی حنیفہ اور ان کی 17 سالہ بیٹی کو گھر میں گھس کر فائرنگ کرکے قتل کیا۔ ان کے مطابق مقتول خاندان سیلاب سے متاثرہ تھا اور پاک فوج کے تعاون سے ان کا گھر بحال کیا گیا تھا، جبکہ بی بی حنیفہ سرکاری ملازمہ تھیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا دہشت گردوں کے مکروہ عزائم اور ان کے غیر انسانی رویے کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ قوم کا دہشت گرد عناصر سے کوئی تعلق نہیں اور امن پسند بلوچ عوام دہشت گردی کو مسترد کرتے ہیں۔
مینا مجید نے کہا کہ گھروں میں داخل ہوکر خواتین کو قتل کرنا نہ بلوچ روایات کا حصہ ہے اور نہ اسے کسی طور بلوچیت یا غیرت قرار دیا جاسکتا ہے۔ دہشت گرد خوف و ہراس پیدا کرکے بلوچستان کے امن، ترقی اور خوشحالی کو متاثر کرنا چاہتے ہیں، تاہم حکومت اور سیکیورٹی فورسز ان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ عوام کا تعاون بھی ضروری ہے۔ شہری مشتبہ سرگرمیوں کی بروقت اطلاع دے کر دہشت گرد عناصر کی شناخت اور گرفتاری میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
خواتین کو نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت ہے: راحیلہ حمید درانی
صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ گھر میں موجود خواتین کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ ہے۔ اکیسویں صدی میں اس نوعیت کا تشدد ناقابل فہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کو نشانہ بنا کر دہشت گرد اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ بلوچ خواتین کو قتل کرنا نہ صرف انسانی اقدار بلکہ بلوچستان کی روایات کے بھی منافی ہے۔
راحیلہ حمید درانی نے کہا کہ مذہبی تعلیمات اور بین الاقوامی قوانین میں بھی خواتین کے تحفظ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ایسے واقعات کے خلاف معاشرے کے ہر طبقے کو آواز بلند کرنی چاہیے۔
خواتین کے قتل میں ملوث عناصر کو سزا ملے گی: غزالہ گولہ
ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولہ نے بی بی حنیفہ اور ان کی بیٹی کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے اور اس پر خاموش نہیں بیٹھا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے قتل میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے گی۔ بلوچ اور پشتون معاشروں میں خواتین کی عزت و حرمت کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے، اس لیے خواتین کو نشانہ بنانے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔
دہشت گردی کے خلاف متحد ہوکر آواز اٹھانے کی ضرورت
پریس کانفرنس میں شریک دیگر رہنماؤں نے بھی نوشکی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی اب صرف سیکیورٹی فورسز کے لیے نہیں بلکہ عام شہریوں، خواتین اور بچوں کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے دہشت گردی کے خلاف ریاستی اداروں، سیاسی قیادت اور عوام کو متحد ہوکر کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان میں امن و امان کو خراب کرنے والے عناصر کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور صوبے میں ترقی، تعلیم اور خوشحالی کا سفر جاری رکھا جائے گا۔

