ترکی( ویب ڈیسک)نیٹو ممالک کے سربراہانِ مملکت 7 اور 8 جولائی 2026 کو ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ایک ہنگامی اور انتہائی اہم اجلاس کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بڑھتے ہوئے سفارتی اختلافات اور جیو پولیٹیکل تناؤ کو کم کرنا ہے۔ نیٹو کے سفارت کاروں نے پہلے ہی ایک مشترکہ اعلامیہ تیار کر لیا ہے تاکہ دنیا کو اتحاد کی یکجہتی کا پیغام دیا جا سکے، تاہم مالیاتی امور اور سیکیورٹی کی تقسیم پر اب بھی گہرے اختلافات موجود ہیں۔
اس دو روزہ کانفرنس کا سب سے بڑا ایجنڈا یوکرین کے لیے فوجی امداد کی منظوری اور اجتماعی دفاع کے عزم کو دہرانا ہے۔ نیٹو رہنما اس سال یوکرین کے لیے 70 ارب یورو (تقریباً 80 ارب ڈالر) کے فوجی پیکیج کی منظوری دیں گے۔ اس کے علاوہ، یورپی ممالک اپنے دفاعی بجٹ میں ریکارڈ اضافے کا اعلان کریں گے تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ان الزامات کا جواب دیا جا سکے جن میں وہ کہتے رہے ہیں کہ امریکہ یورپی ممالک کے دفاع کا بوجھ اکیلا اٹھا رہا ہے۔
امریکہ اور نیٹو اتحادیوں کے درمیان حالیہ مہینوں میں کئی محاذوں پر سرد جنگ جاری ہے۔ یورپی ممالک امریکی صدر کی جانب سے ایران میں شروع کی گئی جنگ پر نالاں ہیں، جس میں یورپ سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی۔ مزید برآں، گرین لینڈ پر قبضے کی امریکی دھمکیوں اور یورپ سے امریکی فوجیوں کے جزوی انخلا نے بھی اتحاد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انقرہ اجلاس میں ترک صدر رجب طیب اردوان اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک رٹہ ان دوریاں کو مٹانے کے لیے اہم ثالث کا کردار ادا کریں گے۔

