لاہور (الفجر آن لائن)لاہور ہائی کورٹ نے موٹروے گینگ ریپ مقدمہ میں
مجرموں کی سزا کے خلاف اپیلیں مسترد کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا۔
جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے 17 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا ۔
جس میں کہا گیا کہ خواتین کے خلاف ایسے جرائم معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ پیدا کرتے ہیں۔
ایسے سنگین جرائم میں غیرضروری نرمی انصاف اور قانون کے وقار کے خلاف ہوگی۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ڈی این اے شواہد سچائی تک پہنچنے کا انتہائی قابل اعتماد ذریعہ ہے۔
جائے وقوعہ سے ملنے والے خون کے نمونے مجرم عابد علی کے ڈی این اے سے میچ ہوئے۔
فارنزک شواہد نے استغاثہ کے مؤقف کی تائید کی، مجرموں کا محض انکار مضبوط طبی، عینی اور فارنزک شواہد کو رد نہیں کرسکتا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ مجرموں نے انسانی وقار اور عورت کی خودمختاری کے تقدس کو مکمل طور پر پامال کیا۔
اس نوعیت کا جرم جنسی تشدد کی بدترین مثال ہے، اس جرم نے عدالت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔
مجرموں کے جرم سے سوسائٹی میں خوف، عدم تحفظ اور بے چینی پیدا ہوئی۔
مجرموں کا جرم انتہائی غیر سفاکانہ اور غیر انسانی تھا، متاثرہ خاتون کا قابل اعتماد بیان سزا برقرار رکھنے کے لیے کافی ہوسکتا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ جنسی زیادتی کے مقدمات میں متاثرہ خاتون کا بیان طبی اور فارنزک شواہد سے ثابت ہو تو غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں دونوں مجرموں کو بلاجھجک شناخت کیا، متاثرہ خاتون نے شناختی پریڈ میں بھی دونوں مجرموں کو درست شناخت کیا۔
مجرموں نے شناختی پریڈ کے طریقہ کار پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ریپ مقدمات میں متاثرہ خاتون کی شناخت ہر صورت خفیہ رکھنا قانون کا تقاضا ہے۔
متاثرہ خاتون کی شناخت کسی بھی صورت ظاہر نہیں کی جا سکتی، ٹرائل کورٹ جرح کے دوران بھی متاثرہ خاتون کی شناخت ظاہر کرنے
والے سوالات کی اجازت نہ دے، خاتون کے طبی معائنے نے جنسی زیادتی اور مزاحمت کے شواہد کی تصدیق کی۔
متاثرہ خاتون کے کپڑوں اور نمونوں سے دونوں مجرموں کا ڈی این اے میچ کر گیا۔
عدالت نے لکھا کہ کمسن بچوں کا بیان ریکارڈ نہ ہونا استغاثہ کے مقدمے کو متاثر نہیں کرتا۔
عدالت مجرمان عابد ملہی اور شفقت بگا کی سزائے موت برقرار رکھتی ہے

