میڈرڈ(الفجر آن لائن) مراکش سے ہزاروں تارکین وطن اسپین کے علاقے سیوٹا میں داخل ہو گئے تو اس کوشش کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 57 تک پہنچ گئی۔
پیڈرو سانچیز نے ‘علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی’ قرار دیا کیونکہ دیگر یورپی یونین کے ممالک اس واقعہ پر میڈرڈ پر تنقید سخت تنقید کر رہے ہیں اور اسپین کو شنجن فری موومنٹ زون سے نکالنے کا مطالبہ ہونے لگا ہے۔دی گارڈین نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 50,000 تارکین وطن کے مراکش سے سپین کے چھوٹے سے علاقے میں داخل ہونے کے بعد 57 افراد
سیوٹا کے سپینش انکلیو تک پہنچنے کی کوشش میں ہلاک ہو گئے ہیں ہزاروں غیر قانونی امیگرنٹس کے سپین میں گھس جانے کے اس واقعہ کو سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے "سپین کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی” قرار دیا ہے۔
صرف 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی غیر قانونی امیگرنٹس کی زبردست یلغار نے 85000افراد کے شہر سیوٹا کو "فتح” کر لیا۔ امیگرنٹس کی اتنی بہت بڑی تعداد کے حملے نے میڈرڈ کے لیے سیاسی بحران کو جنم دیا اور یورپی یونین کے دیگر ممالک کی طرف سے ملے جلے ردعمل کا باعث بنا۔
اس واقعہ کے بعد اسپین کو "شینگن فری موومنٹ زون” سے معطل کرنے کا مطالبہ بھی ہو رہا ہے۔اسپین کے صدرسانچیز نے کہا کہ وہ شہر کی آبادی کے تحفظ کی ضمانت کے لیے اپنے اختیار میں موجود تمام وسائل استعمال کریں گے۔
سانچیز نے بڑے پیمانے پر کراسنگ کو "انسانی اسمگلنگ مافیاؤں ” کا کام قرار دیا جنہوں نے اسپین کی سپریم کورٹ کے فیصلے کا فائدہ اٹھایا۔ اسپین کی سپریم کورٹ نے حال ہی میں فیصلہ دیا تھا کہ سیوٹا، یا اسپین کے دوسرے شمالی افریقی انکلیو میلیلا میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران سمندر میں روکے جانے والوں کو خصوصی قوانین کے تحت واپس نہیں کیا جا سکتا۔
صدر سانچیز نے کہاکہ یہ ان پچھلے چند گھنٹوں کے دوران مافیا کے نیٹ ورکس کے ذریعے جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا ہے جو انسانوں کی اسمگلنگ کرتے ہیں اور اس نے ان خصوصیات اور جہتوں کا ایک برفانی تودہ پیدا کیا ہے جس کا ہم نے کل تجربہ کیا۔
اگرچہ اسپینش حکومت نے کہا کہ تقریباً 50,000 افراد سرحد عبور کر چکے ہیں، تاہم سیوٹا کے صدر نے یہ تعداد تقریباً 60,000 بتائی۔اسپین کی وزارت داخلہ نے انکلیو میں اضافی پولیس افسران اور سپاہیوں کو تعینات کیا ہے۔وزارت داخلہ نے کہا کہ 48,300 سے زائد افراد رضاکارانہ طور پر مراکش واپس آئے تھے

