لندن (الفجر آن لائن) انگلینڈ نے لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کو 194 رنز سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی۔
انگلینڈ نے پاکستان کو جیت کے لیے 389 رنز کا ہدف دیا تھا، تاہم قومی ٹیم دوسری اننگز میں 50.5 اوورز میں صرف 194 رنز بنا کر آل آؤٹ ہوگئی۔
پاکستان کی جانب سے سعود شکیل نے شاندار مزاحمت کرتے ہوئے 122 گیندوں پر 13 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 97 رنز بنائے، تاہم وہ صرف 3 رنز کی کمی سے سنچری مکمل نہ کرسکے۔
شان مسعود نے 26 جبکہ علی عثمان نے 16 رنز بنائے، محمد عباس 13 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔انگلینڈ کی جانب سے اولی رابنسن نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے 24 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے،
جبکہ جوش ٹونگ نے 3 اور جوفرا آرچر نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔بابر اعظم ایک بار پھر بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔ قومی کپتان دوسری اننگز میں صرف 6 رنز بنا کر جوفرا آرچر کا شکار ہوئے،
جبکہ پہلی اننگز میں بھی وہ صرف 8 رنز بنا سکے تھے۔عبداللہ شفیق دوسری اننگز میں بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔ پہلی اننگز میں بھی پاکستان کی پوری ٹیم صرف 110 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی۔
اس سے قبل انگلینڈ نے پہلی اننگز میں 290 رنز بنائے تھے۔ جیمی اسمتھ نے 61، جارڈن کاکس نے 55 اور گس ایٹکنسن نے 45 رنز اسکور کیے۔ پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے 4، محمد علی نے 3 اور خرم شہزاد نے ایک وکٹ حاصل کی۔
انگلینڈ نے دوسری اننگز میں 208 رنز بنا کر پاکستان کے سامنے 389 رنز کا ہدف رکھا۔ ڈین لارنس نے 54، ہیری بروک نے 34 اور ایمیلیو گے نے 31 رنز بنائے۔
محمد عباس نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 5 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ خرم شہزاد اور محمد علی نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں۔ہدف کے تعاقب میں پاکستان کا آغاز انتہائی خراب رہا اور صرف 14 رنز پر 3 وکٹیں گر گئیں۔
بعد ازاں سعود شکیل نے مزاحمت کی، تاہم ان کی 97 رنز کی عمدہ اننگز بھی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکی۔امام الحق پنڈلی کی انجری کے باعث دوسری اننگز میں بھی بیٹنگ نہ کرسکے،
جبکہ ان کی جگہ سلمان آغا نے متبادل کھلاڑی کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 ستمبر کو برمنگھم میں شروع ہوگا۔

