وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا غیر معمولی اجلاس کل طلب کر لیا، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کابینہ سے منظوری کے بعد معاملہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا
اسلام آباد (الفجرآن لائن) خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق غیر معمولی آئینی اقدامات پر غور کے لیے ایوانِ صدر میں ملکی قیادت کی اہم بیٹھک ہوئی، جس میں مشاورت مکمل کرلی گئی۔ ذرائع کے مطابق صوبے میں ممکنہ آئینی اقدامات کے حوالے سے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے اس معاملے پر غور اور ممکنہ منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا غیر معمولی اجلاس کل طلب کرلیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے متعلق معاملہ زیرِ غور آئے گا اور اس کی توثیق یا منظوری حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تاہم، ان اقدامات کے نفاذ سے متعلق حتمی فیصلہ متعلقہ آئینی و قانونی تقاضوں کی تکمیل سے مشروط ہوگا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز پارلیمنٹ کے سامنے پیش کی جائے گی۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے مقررہ مدت کے اندر منظوری حاصل کرنا آئینی عمل کا اہم مرحلہ ہوگا۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ دس روز کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری حاصل کرنا آئینی تقاضا ہے، جبکہ پارلیمنٹ سے سادہ اکثریت کے ذریعے منظوری ملنے کے بعد ہی مجوزہ غیر معمولی اقدامات کے نفاذ کی راہ ہموار ہوگی۔خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق حتمی فیصلہ، اس کی وجوہات اور مجوزہ اقدامات کی تفصیلات تاحال سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی ہیں۔ اس لیے معاملے کی آئینی حیثیت اور عملی پیش رفت کے حوالے سے وفاقی حکومت کے باضابطہ مؤقف اور متعلقہ سرکاری اعلامیے کو اہمیت حاصل ہوگی۔

