جے یو آئی سربراہ کی وزیراعظم ہاؤس میں وفد کے ہمراہ ملاقات، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی بحالی پر تبادلہ خیال؛ مولانا فضل الرحمان کا خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج جیسے انتہائی اقدام سے گریز کرنے کا مشورہ، ذرائع
اسلام آباد (الفجرآن لائن) ملک کی موجودہ سیاسی صورتِ حال اور وفاقی حکومت و خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات کی، جس میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ سمیت مختلف آئینی و سیاسی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر زور دیا کہ کسی بھی انتہائی اقدام سے گریز کرتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی بحالی کو ایک اور موقع دیا جائے تاکہ سیاسی تناؤ کم اور مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا راستہ ہموار ہو سکے۔ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز مولانا فضل الرحمان نے اپنے وفد کے ہمراہ وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتِ حال، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعطل کا شکار مذاکراتی عمل، وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی اور صوبے میں ممکنہ غیر معمولی آئینی اقدامات سے متعلق امور زیرِ غور آئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور افہام و تفہیم کو ترجیح دینے پر زور دیا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ حالات میں سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ کھلا رکھنا ضروری ہے اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کیا جانا چاہیے جس سے حالات مزید پیچیدہ ہو جائیں۔
ذرائع کے مطابق جے یو آئی سربراہ نے وزیراعظم سے خیبرپختونخوا میں فی الحال ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ نہ کرنے کی یقین دہانی بھی طلب کی۔ انہوں نے تجویز دی کہ حکومت اور اپوزیشن کو مذاکرات کے ذریعے اختلافات دور کرنے کے لیے مزید وقت دیا جائے تاکہ سیاسی معاملات کو تصادم کے بجائے گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا سکے

