ریاض (الفجر آن لائن) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 10 اکتوبر کو ہونے والے حملے کے نتیجے میں 12 افراد جاں بحق جبکہ 309 زخمی ہوگئے۔ سعودی حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں سعودی شہریوں کے علاوہ مختلف ممالک کے باشندے بھی شامل ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن نے بتایا کہ واقعے میں چار سعودی شہری، دو بنگلہ دیشی شہری اور امریکا، مصر، اردن، شام، فلسطین اور سوڈان سے تعلق رکھنے والا ایک ایک شہری جاں بحق ہوا۔ حکام کے مطابق زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ بعض زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حملے کے بعد ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کیا گیا اور پروازوں میں بھی خلل پڑا۔ حکام نے مسافروں کو ہدایت کی کہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے قبل اپنی متعلقہ ایئرلائن سے پرواز کی تازہ صورتحال کی تصدیق کریں۔
اس سے قبل 8 اکتوبر کو بھی ریاض ایئرپورٹ کی تنصیبات اور سعودی ایئرلائن کے ایک طیارے کو نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جن میں تین سعودی شہری جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔
واقعے کے بعد خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ حملے کی ذمہ داری اور اس کے تمام پہلوؤں سے متعلق تازہ سرکاری معلومات کی تصدیق کے بعد مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔

