ایسا کوئی بھی صدارتی حکم پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا لازم ہوتا ہے
اسلام آباد(الفجرآن لائن)خیبرپختونخوا میں ہنگامی حالت کا نفاذ کر دیاگیا ہے۔ہنگامی حالت (ایمرجنسی)کے نفاذ کی صورت میں شہریوں کے بعض بنیادی حقوق کی معطلی اور عدالتی رجوع کے اختیار سے متعلق آئینی شقوں کی اہم تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد آرٹیکل 233 کے تحت ریاست (جس کی تعریف آرٹیکل 7 میں کی گئی ہے)کو ایسے قوانین بنانے اور انتظامی اقدامات کرنے کا اختیار مل جاتا ہے جو بعض بنیادی حقوق کے منافی ہوں۔ اس دوران آئین کے آرٹیکل 15 (نقل و حرکت کی آزادی)، آرٹیکل 16(اجتماع کی آزادی)، آرٹیکل 17 (تنظیم سازی کی آزادی)، آرٹیکل 18(تجارت و کاروبار کی آزادی)، آرٹیکل 19(آزادی اظہارِ رائے) اور آرٹیکل 24 (جائیداد کے حقوق کا تحفظ)میں دی گئی آئینی پابندیاں ریاست کے لیے ماننا لازم نہیں رہتیں اور یہ حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔تاہم آئینی ماہرین کے مطابق تمام بنیادی حقوق خودبخود معطل نہیں ہوتے، بلکہ مخصوص بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے عدالتی رجوع کے حق کی معطلی کے لیے صدرِ مملکت کا باقاعدہ حکم نامہ جاری ہونا ضروری ہے۔ آئین کی رو سے ایسا کوئی بھی صدارتی حکم پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا لازم ہوتا ہے۔

