پی ٹی آئی چیئرمین کی وفاقی حکومت پر تنقید، منتخب وزیراعلیٰ کو اختیارات سے الگ کرنے کی مخالفت؛ سلمان اکرم راجہ کا مؤقفمذاکرات میں پیش رفت ہو رہی تھی، ایمرجنسی کے نفاذ میں جلدبازی کی گئی؛ علامہ راجہ ناصر عباس کا نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا مطالبہ
اسلام آباد (الفجرآن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات آئین، قانون اور جمہوری اقدار کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک جمہوری جماعت ہے اور اس نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھائی ہے، تاہم دہشت گردی کے خاتمے کے لیے یکساں، متفقہ اور مؤثر حکمت عملی ضروری ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پْرعزم ہے اور صوبائی حکومت کے عدم تعاون کا بیانیہ درست نہیں۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت نے پولیس کی استعداد کار بڑھانے، سکیورٹی کے لیے وسائل فراہم کرنے اور دہشت گردی سے متعلق اجلاسوں میں شرکت کے ذریعے تعاون کیا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر دہشت گردی کا مسئلہ 12 اضلاع میں ہے تو پورے صوبے میں گورنر راج کیوں نافذ کیا گیا؟پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ منتخب وزیراعلیٰ کو اختیارات سے الگ کرنا جمہوری اصولوں کے منافی ہے اور گورنر راج کے ذریعے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت دہشت گردی کی ہر شکل میں مذمت کرتی ہے اور پاکستان کی سلامتی و دفاع کو مقدم سمجھتی ہے۔
ان کے بقول دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی کارروائیوں سے جوڑنا درست نہیں۔بیرسٹر گوہر نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف عدالتوں، اسمبلیوں اور عوامی فورمز پر آواز اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی سیاسی طاقت کو غیر معمولی آئینی اقدامات کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا اور ان کی جماعت آئین، قانون اور جمہوری حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی
۔بیرسٹر گوہر علی خان نے بانی پی ٹی آئی کے علاج، صحت سے متعلق معلومات کی فراہمی اور اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے بنیادی قانونی اور آئینی حقوق ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو اسپتال منتقل کیا جائے اور ان کے علاج معالجے کی صورتحال سے اہل خانہ کو آگاہ کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے لیے ریلیف حاصل کرنے کی غرض سے 19 مرتبہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا، تاہم ان کے مطابق مطلوبہ ریلیف نہ ملنے پر لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست کا لانگ مارچ بانی پی ٹی آئی کے حقوق کے لیے کیا گیا تھا اور اسے انصاف کے حصول کی جدوجہد قرار دیا۔پی ٹی آئی چیئرمین نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کے 1,500 کارکن پنجاب کی جیلوں میں قید ہیں، جبکہ 10 ارکان صوبائی اسمبلی، جن میں تین وزرا بھی شامل ہیں، اور قومی اسمبلی کے آٹھ ارکان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی سمیت تمام زیر حراست افراد کو قانون کے مطابق حقوق فراہم کیے جائیں۔پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف آئندہ لائحہ عمل تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے طے ہونا چاہیے تھا۔

