وفاقی وزیر کی یورپی یونین کے کمشنر میگنس برونر سے ملاقات، قانونی مائیگریشن، پیشہ ورانہ تربیت اور پاکستانی افرادی قوت کی یورپی لیبر مارکیٹ تک رسائی پر تبادلۂ خیال
اسلام آباد (الفجرآن لائن): وفاقی وزیر برائے سمندرپار پاکستانیز و انسانی وسائل کی ترقی چوہدری سالک حسین نے یورپی ممالک میں پاکستانی ہنرمند افرادی قوت کے لیے قانونی روزگار کے مواقع بڑھانے اور پیشہ ورانہ مہارتوں کے فروغ کے لیے دوطرفہ تعاون مزید مستحکم کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس تربیت یافتہ اور ہنرمند افرادی قوت فراہم کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، جو یورپی یونین کے رکن ممالک کی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے وزیر مملکت برائے اوورسیز پاکستانیز و انسانی وسائل کی ترقی محمد عون چوہدری کے ہمراہ یورپی یونین کے کمشنر برائے داخلی امور و مائیگریشن میگنس برونر سے ملاقات کی، جنہوں نے یورپی یونین کے وفد کی قیادت کی۔ ملاقات میں قانونی مائیگریشن، ٹیلنٹ پارٹنرشپ، غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام، سمندر پار پاکستانیوں کے حقوق کے تحفظ اور پاکستانی کارکنوں کی یورپی لیبر مارکیٹ تک رسائی کے امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
چوہدری سالک حسین نے کہا کہ صحت، تعمیرات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، ٹرانسپورٹ اور تکنیکی شعبوں سمیت مختلف شعبوں میں پاکستانی نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق اگست 2026ء تک یورپی یونین کے رکن ممالک میں ملازمت کے لیے رجسٹرڈ پاکستانی کارکنوں کی تعداد 9 ہزار 57 تک پہنچ چکی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی نوجوان اپنی محنت، پیشہ ورانہ مہارت اور صلاحیتوں کے ذریعے عالمی لیبر مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیت اور متعلقہ ممالک کے ساتھ مؤثر تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان مئی 2025ء میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت اور تین سال کے دوران پاکستانی کارکنوں کے لیے 10 ہزار 500 ملازمتوں کے مواقع کے اعلان کو قانونی مائیگریشن کے فروغ میں اہم پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے تجویز پیش کی کہ جرمنی، فن لینڈ، یونان اور آئرلینڈ سمیت دیگر یورپی ممالک کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے عملی انتظامات کو فروغ دیا جائے تاکہ پاکستانی ہنرمندوں کے لیے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہو سکیں۔ انہوں نے جنوبی کوریا کے ساتھ پاکستانی ہنرمند افرادی قوت کے کامیاب تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کارکن عالمی سطح پر اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔
چوہدری سالک حسین نے بتایا کہ مؤثر نگرانی، سفری دستاویزات کی جانچ اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث سہولت کاروں کے خلاف کارروائی سمیت مختلف اقدامات کے نتیجے میں غیر قانونی مائیگریشن میں تقریباً 47 فیصد کمی آئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی نقل مکانی کی روک تھام اور پاکستانی شہریوں کے لیے قانونی روزگار کے مواقع میں اضافہ حکومت کی پالیسی کے اہم اہداف ہیں۔ ان کے مطابق محفوظ اور قانونی ذرائع سے بیرونِ ملک روزگار کے فروغ کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ اور تعاون مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
ملاقات میں مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنے، سالانہ تعیناتی اہداف مقرر کرنے، یورپی لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے اور زبان کی تعلیم کو فروغ دینے کی تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ ویزا پراسیسنگ میں سہولت اور پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے مشترکہ تکنیکی ورکنگ گروپ قائم کرنے کی تجویز زیرِ بحث آئی۔
ان اقدامات کا مقصد پاکستانی ہنرمندوں کی صلاحیتوں کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنا اور یورپی ممالک میں ان کی ملازمت کے امکانات بہتر بنانا ہے۔
یورپی یونین کے وفد کے سربراہ میگنس برونر نے مائیگریشن کے شعبے میں وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کی کوششوں کو سراہا۔ ملاقات میں دونوں جانب سے قانونی نقل مکانی کے فروغ، معلومات کے تبادلے اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر اتفاق کیا گیا۔
وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ہنرمند افرادی قوت کی نقل و حرکت اور قانونی روزگار کے فروغ کے لیے تعاون مزید وسعت اختیار کرے گا، جس سے پاکستانی کارکنوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور دونوں فریقین کو باہمی فائدہ پہنچے گا۔

