یوتھ بزنس اور ایگریکلچر لون اسکیم کے تحت قرضوں کی زیادہ سے زیادہ حد 75 لاکھ سے بڑھا کر 2 کروڑ 50 لاکھ روپے کر دی گئی؛ کم از کم عمر 18 سال، خواتین کے لیے 30 فیصد قرضے مختص کرنے کی ہدایت۔
اسلام آباد (الفجر آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزیراعظم یوتھ بزنس لون اسکیم اور وزیراعظم یوتھ ایگریکلچر لون اسکیم کے تحت نوجوانوں کو فراہم کیے جانے والے قرضوں کی زیادہ سے زیادہ حد 75 لاکھ روپے سے بڑھا کر ڈھائی کروڑ روپے کر دی ہے، جبکہ قرض حاصل کرنے کے لیے کم از کم عمر کی حد 21 سال سے کم کرکے 18 سال مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم نے اسکیم کے تحت خواتین کے لیے 30 فیصد قرضے مختص کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وزیراعظم یوتھ بزنس اور ایگریکلچر لون اسکیموں پر عملدرآمد اور نوجوانوں کو قرضوں کی فراہمی کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا، جس میں نوجوانوں کے لیے کاروباری مواقع پیدا کرنے، زرعی شعبے میں ان کی شمولیت بڑھانے اور مالی معاونت کے نظام کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق اقدامات پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں وزیراعظم نے ہدایت کی کہ نوجوانوں کو کاروباری اور زرعی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے آسان اقساط پر ڈھائی کروڑ روپے تک قرضے فراہم کیے جائیں، تاکہ وہ اپنے کاروبار شروع کرنے کے ساتھ موجودہ کاروباری سرگرمیوں کو بھی وسعت دے سکیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ حکومت انہیں بااختیار بنانے، ان کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنے اور باعزت و پیداواری روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ نوجوانوں کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے کاروباری اور زرعی شعبوں میں زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے قرضوں کی فراہمی کے پروگرام میں خواتین کے لیے 30 فیصد حصہ مختص کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد خواتین کی معاشی خودمختاری، کاروباری سرگرمیوں میں ان کی شمولیت اور خود روزگاری کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔
وزیراعظم نے قرضوں کے حصول کے لیے نوجوانوں کی کم از کم عمر 21 سال سے کم کرکے 18 سال کرنے کی بھی ہدایت کی، تاکہ نوجوان عملی زندگی کے ابتدائی مرحلے ہی میں کاروبار شروع کر سکیں اور زرعی شعبے میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لا سکیں۔
اجلاس میں وزیراعظم نے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کو ہدایت کی کہ نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے سے لے کر اسے کامیابی سے چلانے تک ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے۔ اس مقصد کے لیے کاروباری رہنمائی، مشاورت، منصوبہ بندی اور تکنیکی معاونت کے مؤثر انتظامات کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ملک گیر سطح پر وسیع آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کی، تاکہ نوجوانوں کو ان اسکیموں، قرضوں کے حصول کے طریقہ کار اور دستیاب سہولیات سے آگاہ کیا جا سکے اور زیادہ سے زیادہ افراد ان حکومتی پروگراموں سے فائدہ اٹھا سکیں۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ جنوری 2023 سے اب تک 5 لاکھ 81 ہزار 341 نوجوانوں کو قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں، جو گزشتہ دس برس کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہیں۔ اس عرصے میں مجموعی طور پر 313.9 ارب روپے کے قرضے دیے گئے۔
بریفنگ کے مطابق مالی سال 2026-27 کے دوران 2 لاکھ 66 ہزار 700 نوجوانوں کو مجموعی طور پر 292 ارب روپے کے قرضے فراہم کرنے کا تخمینہ ہے، جس سے کاروباری اور زرعی سرگرمیوں کے لیے نوجوانوں کو مزید مواقع میسر آئیں گے۔

