اسلام آباد (الفجرآن لائن) سابق وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور سہیل آفریدی اور پارٹی کی صوبائی قیادت کے خلاف پھٹ پڑے۔ سیاسی کمیٹی کو ناراض اراکین سے رابطہ کرنے سے روکنے کے اقدام کو آمریت قرار دے دیا۔ سابق وزیر اعلی کی ایک لیک ویڈیو میں انہوں نے صوبائی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ان کا کہنا ہے کہ نوٹیفیکیشن کے بارے میں یہ کہوں گا کہ اس طرح کی ڈکٹیٹر شپ اپنا کر جو باتیں کی جا رہی ہیں کسی پارٹی میں ایسا نہیں ہوتا ۔
ہمارے صدر صاحب خود صوبائی صدر ہو کر میڈیا میں اپنی ہی حکومت کے خلاف باتیں کی ہیں ۔ اس گروپ میں شامل پارلیمنٹ میں بیٹھے ہمارے لوگوں نے پوری صوبائی کا بینہ پر کرپشن کے الزامات لگائے تھے ۔ وہ ریکارڈ پر موجود ہیں ۔ انہوں نے کہا مہربانی کر کے اس طرح کی دھمکیاں دھونسلے اور نوٹیفیکیشن مت جاری کریں یہ کوئی طریقہ نہیں ہے ہر بندے کی اپنی عزت ہے ۔ ہر ایک تحفظات کو محبت اور عزت کے ساتھ ڈیل کریں ۔ یہ مشورہ پارٹی کی بھلائی کے لئے دے رہا ہوں ۔ انہوں نے کہا اس طرح کے حرکتیں اور ڈکٹیٹر شپ پارٹی معاملات مزید خراب کریں گے ۔ میں نے جو با تیں کی ہیں انکا ثبوت اسمبلی فلور پر بھی اور باہر بھی پیش کر سکتا ہوں ۔ ایک بندہ ایسا ہے جس نے پوری کابینہ پر کرپشن کے الزامات لگائے اس نے موجودہ وزیر اعلی کو بھی کرپٹ قرار دیا ۔ اور وہ بندہ خود آج کا بینہ کا حصہ ہے اس سے توکسی نے پوچھ گچھ نہیں کی ۔ کیا اس کو کوئی نوٹس جاری ہوا ۔ یہ دوہرا معیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی تم ناچو تو فیشن اور ہم ناچیں تو مجرہ ۔ یہ پار ٹی سب کی ہے کسی کو اختیار نہیں کہ کسی کو دھمکیاں دے ۔اگر نوٹیفیکیشن جاری کرنا ہے تو پہلے اپنے گریبان میں بھی جھانکیں ۔ اس طرح کے نوٹیفیکیشن گروپ میں شئیر مت کریں ۔ اس سے پارٹی کو نقصان پہنچے گا ۔
