کوئٹہ( الفجرآن لائن+ خانزادہ یونس خلجی) حکومتِ بلوچستان کے محکمہ داخلہ نے محرم الحرام 1448 ہجری کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ یہ پابندیاں یکم محرم الحرام سے 10 محرم الحرام 1448 ہجری تک نافذ العمل رہیں گی۔

جلوسوں اور مجالس کے راستوں پر واقع عمارتوں کی چھتوں، بالکونیوں، کھڑکیوں اور دیگر بلند مقامات پر غیر متعلقہ افراد کے کھڑے ہونے یا جمع ہونے پر بھی پابندی ہوگی، جبکہ صرف رہائشیوں اور ضلعی انتظامیہ سے اجازت یافتہ افراد کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔کوئٹہ اور نصیرآباد میں وال چاکنگ پر بھی پابندی عائد۔
نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ سنٹرل پولیس آفس بلوچستان کی سفارشات، موجودہ امن و امان کی صورتحال، حالیہ دہشت گردی کے واقعات اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے تاکہ محرم کے جلوسوں اور مجالس کے دوران عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
اعلامیے کے تحت صوبہ بھر میں فرقہ وارانہ، اشتعال انگیز، نفرت انگیز یا امن عامہ میں خلل ڈالنے والے مواد کی اشاعت، تقسیم، نمائش اور سوشل میڈیا سمیت ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر تشہیر پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسلحہ اور گولہ بارود کی نمائش، لے جانے یا عوامی مقامات پر ظاہر کرنے پر بھی پابندی ہوگی، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔
حکومت نے مشتبہ اور غیر مطلوب افراد کی حساس مقامات اور جلوسوں کے راستوں تک رسائی محدود کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ مزید برآں، عوامی مقامات، چوراہوں اور جلوسوں کے راستوں پر پیشہ ور بھکاریوں کی موجودگی اور گداگری پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔
ضلع کوئٹہ میں خصوصی پابندیا نوٹیفیکیشن کے مطابق ضلع کوئٹہ میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ اسی طرح ضلع یا صوبے سے باہر سے لائے گئے لاؤڈ اسپیکرز کے استعمال کے لیے پیشگی اجازت لازمی قرار دی گئی ہے۔
ضلع کوئٹہ اور ڈویژن نصیرآباد میں وال چاکنگ، پوسٹرز، بینرز، پمفلٹس، ہینڈ بلز، اسٹیکرز اور دیگر تشہیری مواد آویزاں کرنے یا تقسیم کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جب تک متعلقہ حکام سے پیشگی اجازت حاصل نہ کی جائے۔
حکومت بلوچستان نے ڈپٹی کمشنرز، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ نوٹیفکیشن میں خبردار کیا گیا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188 اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی
