گزشتہ ایک سال میں انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے مجموعی طور پر تقریباً 800 ارب کی اضافی آمدن حاصل ہوئی بلال اظہر کیانی
سرمایہ کاری بڑھا سکیں گے، وزراء کی پریس کانفرنس
اسلام آباد (الفجرآن لائن) وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ ایف بی آر میں ڈیجیٹلائزیشن، میرٹ اور اصلاحات کے باعث ٹیکس نظام میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے نتیجے میں اربوں روپے کی اضافی ریکوری ممکن ہوئی ہے اور نظام کو کرپشن و سفارش سے پاک کیا گیا ہے۔
میڈیا بریفنگ کے دوران وزیر اطلاعات عطا تارڑنے کہا کہ موجودہ حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مکمل طور پر جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جامع اصلاحات متعارف کرائی ہیں، جن کا مقصد ٹیکس کلیکشن کے نظام کو شفاف، مؤثر اور خودکار بنانا ہے۔ انہوں نے کہا بین الاقوامی معیار کے مطابق ایف بی آر میں ڈیجیٹلائزیشن کا عمل تیزی سے مکمل کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف ٹیکس وصولی میں بہتری آئی ہے بلکہ بدعنوانی اور انسانی مداخلت کے امکانات بھی کم ہوئے ہیں۔
پہلے کسٹمز اور انکم ٹیکس کے شعبوں میں سفارش اور کرپشن کے مسائل موجود تھے، تاہم اب تمام تقرریاں مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پرکی جا رہی ہیں۔ ریلیف اقدامات سے برآمد کنندگان اپنی پیداوار اور انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا وڑن واضح ہے کہ ٹیکس دینے والے شہریوں پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے بلکہ ٹیکس نہ دینے والے شعبوں سے وصولی یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے کہا اصلاحات کے بعد کسٹمز کلیئرنس اور دیگر امور مکمل طور پر خودکار نظام کے تحت انجام پا رہے ہیں، جہاں جی ڈی نمبر کے اندراج سے ہی پورا عمل ڈیجیٹل طریقے سے مکمل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا صرف شوگر سیکٹر سے 60 ارب روپے کی اضافی ریکوری ممکن ہوئی ہے جبکہ تمباکو انڈسٹری میں تقریباً 200 ارب روپے کی ممکنہ لیکیج کو روکا گیا ہے۔
دیگر شعبوں میں بھی اسی طرز کے اقدامات سے ریونیو میں اضافہ ہوا ہے۔ اس موقع پر وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ ٹیکس تنازعات اور قانونی معاملات کے لیے بھی نئے ٹریبیونلز قائم کیے گئے ہیں، جس سے اربوں روپے کی ریکوری میں مدد ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے مجموعی طور پر تقریباً 800 ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن میں بین الاقوامی اداروں اور ماہرین نے بھی تعاون کیا ہے، جبکہ بعض عالمی فاؤنڈیشنز اور ٹیکنالوجی ادارے اس عمل میں شریک رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے بھی ٹیکس نظام واضح اور منصفانہ بنایا گیا ہے، جہاں 50 ہزار روپے ماہانہ تک آمدن رکھنے والوں پر کوئی ٹیکس نہیں جبکہ اس سے زیادہ آمدن پر معمولی شرح سے ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔نہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات کسی ایک دور کی نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے جس کا مقصد ملک میں ایک جدید، شفاف اور مؤثر ٹیکس نظام قائم کرنا ہے تاکہ معیشت کو مستحکم بنیادوں پر آگے بڑھایا جا سکے۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ حکومت نے معیشت کو سہارا دینے اور مختلف شعبوں میں ترقی کو فروغ دینے کے لیے اہم ریلیف اقدامات کیے ہیں، جن سے ہاؤسنگ سیکٹر، برآمدات اور صنعتی پیداوار میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔انہوں نے کہا کہ پانچ اور دس مرلے کے گھروں اور پلاٹس کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے تاکہ عام شہریوں کو سہولت مل سکے اور رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرگرمی بڑھے۔ ہاؤسنگ سیکٹر کو ریلیف دینے سے تعمیراتی صنعت سے جڑی درجنوں ذیلی صنعتیں بھی فعال ہوں گی، جس سے مجموعی طور پر معیشت کو تقویت ملے گی۔ انہوں نے کہا اپنا گھر پروگرام کے تحت 90 ارب روپے کی رقم جاری کر
دی گئی ہے، جس میں سے 11 ارب روپے براہ راست مستحق افراد تک پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا ہاؤسنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری بڑھنے سے بجری، سریے، سیمنٹ اور فٹنگ سمیت تقریباً 12 بڑی صنعتیں متحرک ہوتی ہیں، جو روزگار کے نئے مواقع پیدا کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے برآمد کنندگان کے لیے بھی بڑے فیصلے کیے ہیں۔ ان کے مطابق ایکسپورٹرز پر عائد ایڈوانس ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جبکہ سپر ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد برآمدات میں اضافہ اور صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا ان ریلیف اقدامات سے برآمد کنندگان اپنی پیداوار اور سرمایہ کاری بڑھا سکیں گے، جس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف“میڈ ان پاکستان”مصنوعات کو عالمی مارکیٹ میں زیادہ مسابقتی بنانا ہے
