غیر ترقیاتی بجٹ کا تخمینہ 797 ارب 80 کروڑ روپے اورترقیاتی بجٹ کا تخمینہ 291ارب 55 کروڑ روپے ہے
حکومت کو وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے 44 ارب 55 کروڑ روپے شامل این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کے آئندہ مالی سال میں وفاقی محاصل سے آمدن کا اندازہ 834 ارب 44 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔
بلوچستان کے آئندہ مالی سال میں وفاقی محاصل سے آمدن کا اندازہ 834 ارب 44 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ آئندہ مالی مال کے دوران مختلف محکموں میں 5000 نئی اسامیاں پیدا کی جائیں گی۔ جبکہ بلوچستان بینک کیلئے 10 ارب روپے مختص کیے گئے،صوبائی وزیر خزانہ
کوئٹہ (الفجرآن لائن) بلوچستان کے آئندہ مالی سال 2026-27ء کا ٹیکس فری سرپلس بجٹ پیش کردیا گیا۔ جس کا کل حجم 1134 ارب 92 کروڑ روپے ہے جس میں غیر ترقیاتی بجٹ کا تخمینہ 797 ارب 80 کروڑ روپے اورترقیاتی بجٹ کا تخمینہ 291ارب 55 کروڑ روپے ہے صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بدھ کو بلوچستان اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کو وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے 44 ارب 55 کروڑ روپے شامل ہیں ۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کے آءندہ مالی سال میں وفاقی محاصل سے آمدن کا اندازہ 834 ارب 44 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔
آئندہ مالی مال کے دوران مختلف محکموں میں 5000 نئی اسامیاں پیدا کی جائیں گی۔ جبکہ بلوچستان بینک کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ صوباءی ترقیاتی بجٹ پی ایس ڈی پی کا حجم 206 بلین روپے ہے جس میں نءی اسکیمات کے لءے 106 بلین اور جاری اسکیمات کے لیے 100 بلین روپے رکھے گئے ۔ اور فیڈرل ڈویلپمنٹ گرانٹ کی مد میں 45 بلین اور ایف پی اے کی مد میں 40 بلین، صوبائی ترقیاتی پروگرام کے علاوہ ہے اس لیے یہ بجٹ صوبے کا سرپلس بجٹ ہے اور صوبے کی آمدن 170بلین تک پہنچائیں گے۔ اور صوبے میں وفاق کے تعاون سے ڈیمز اگلے سال مکمل کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ درگئی شبوزءی سے تونسہ شریف روڈ ، دکی سے چمالنگ، پنجگور کچک گوادر روڈ اور سوءی سے کشمور روڈ کی تعمیر یقینی بنائی جائے گی۔
پسنی میں 50 بیڈ کا ہسپتال ، آواران میں گھروں کی تعمیر ، 10 سیلاب سے متاثرہ پولیس اسٹیشن کی ازسرنو تعمیر ، بلوچستان واٹر ریسورس ڈویلپمنٹ پروجیکٹ ، بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کے لءے 3 بلین رکھے گئے۔ جس میں 2 روپے بلین کمپنی واپس کرے گی اور ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کے ماسٹر پلان کے لیے 3 بلین مختص کیے گئے ۔ ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اور معدنی وساءل کے فروغ سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کے لئے 490 ملین، ثقافت، آثار قدیمہ کے فروغ کے 85 ملین صوبے سے بے روزگاری کے خاتمے کے لیے 5000 نئی اسامیاں مختلف محکموں میں تخلیق کی جائیں گی
