اسلام آباد (الفجر آن لائن)وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کر دیتے ہیں۔ اس معاہدے کو 14 نکاتی ’مفاہمتی یادداشت‘ کہا گیا ہے۔
دونوں ممالک نے 60 روز کے اندر حتمی معاہدے پر بات چیت کا اعلان کیا ہے، تاہم اس میعاد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
معاہدے کے پہلے پیراگراف میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، ایران اور اتحادی لبنان سمیت ’تمام محاذوں‘ پر فوجی کارروائیوں کو ’فوری اور مستقل‘ ختم کرنے کا اعلان کریں گے۔
امریکہ اور ایران ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے‘ اور فریقین کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں گے۔
60 امریکہ اور ایران 60 روز میں بات چیت اور حتمی معاہدے کو حاصل کرنے کا عہد کریں گے، اس ٹائم لائن کو باہمی رضامندی سے بڑھایا جا سکتا ہے۔ 60 روز کا آغاز دونوں ممالک کے رہنماؤں کے باضابطہ طور پر مفاہمت نامے پر دستخط کرنے کے بعد شروع ہوں گے۔
ایک بار مفاہمت نامے پر دستخط ہونے کے بعد، امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی اور ایرانی بندرگاہوں پر موجود ’کسی قسم‘ کی رکاوٹ کو ہٹانا شروع کر دے گا۔ حتمی معاہدے پر دستخط ہونے کے 30 روز کے اندر امریکہ نے ایران کے اطراف سے امریکی افواج کو ہٹانے کا وعدہ کیا ہے۔ عملی طور پر، اس کا مطلب ہے کہ امریکی فوج 28 فروری کو لڑائی شروع ہونے سے پہلے اپنی پوزیشن پر واپس آجائے گی۔
معاہدے کے مطابق یہ ناکہ بندی 30 دن کے اندر مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ اس دوران امریکہ ایرانی بندرگاہوں کے ذریعے جتنے بحری جہازوں کو جانے کی اجازت دیتا ہے وہ آبنائے ہرمز میں ایران کی طرف سے بحال ہونے والی ٹریفک کے تناسب سے ہو گا۔
معاہدے کے مطابق ایران آبنائے کے ذریعے تجارتی جہازوں کو محفوظ گزرنے کی اجازت دینے کے لیے ’اپنی بہترین کوششوں کا استعمال کرتے ہوئے انتظامات کرے گا۔‘
تکنیکی اور فوجی ’رکاوٹوں‘ کو دور کرنے اور بارودی سرنگیں ہٹانے کے آپریشن کرنے کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹریفک فوری طور پر بحال ہو جائے گی۔
امریکہ اس بات کا پابند ہوگا کہ ایران پر عائد تمام اقسام کی پابندیاں ختم کی جائیں، جس کا شیڈول بعد میں طے کیا جائے گا۔
دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا اور ایران اپنے افزودہ جوہری مواد کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں ’غیر مؤثر’ کرنے پر آمادہ ہوگا۔
افزودہ یورینیم کے معاملے سے نمٹنے تک ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ’سٹیٹس کو‘ برقرار رہے گا۔
عملی طور پر اس کا مطلب ہے کہ امریکہ نئی پابندیاں نہیں لگائے گا۔ اس دوران، یہ تیل، پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر متعلقہ خدمات، جیسے بینکنگ لین دین اور نقل و حمل کے لیے ایران کو چھوٹ دے گا۔۔ ایم او یو پر دستخط ہونے کے بعد امریکہ ’مکمل طور پر منجمد یا محدود فنڈز فراہم کرنے کا عہد کرتا ہے‘ اور اس طریقہ کار پر بات چیت کے دوران اتفاق کیا جائے گا۔
دستاویز کے آخری چند نکات طے پا جانے والے نکات کی مانیٹرنگ اور اور حتمی معاہدے سے متعلق ہیں۔ ان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران مفاہمت نامے کے نفاذ اور مستقبل کے معاہدے کی تعمیل کی نگرانی کے لیے ایک میکنزم قائم کریں گے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کی عملی شکل کیسے ہو گی۔
آخر میں میں کہا گیا ہے کہ حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔
