اسلام آباد(الفجرآن آن لائن ) وفاقی کابینہ نے وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے پیش کردہ پرائیویٹ حج پالیسی 2027-2030 کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت پرائیویٹ حج نظام میں بنیادی اصلاحات کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر کارکردگی، شفافیت اور ڈیجیٹل کنٹرول پر مبنی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ترجمان وزارتِ مذہبی امور کے مطابق نئی پالیسی کے تحت پرائیویٹ حج کے لیے روایتی کوٹہ سسٹم کے بجائے کارکردگی اور کمپلائنس پر مبنی نظام نافذ کیا جائے گا، جبکہ موجودہ حج آپریٹرز کی دوبارہ جانچ لازمی قرار دی گئی ہے۔
پالیسی کے مطابق پرائیویٹ حج کوٹہ “پہلے آئیں، پہلے پائیں” کی بنیاد پر مختص ہوگا، اور ہر آپریٹر کے لیے کم از کم 2 ہزار حجاج کی بکنگ لازمی ہوگی۔ کم بکنگ کی صورت میں متعلقہ کمپنی کو غیر فعال قرار دیا جائے گا۔
ترجمان کے مطابق ناکام کمپنیوں کی 50 فیصد سیکیورٹی ضبط کی جائے گی جبکہ متاثرہ حجاج کو خودکار طور پر دیگر مستند کمپنیوں میں منتقل کر دیا جائے گا۔ تمام حج کمپنیوں کی آزاد ماہرین کے ذریعے جانچ اور درجہ بندی بھی کی جائے گی۔پالیسی میں کہا گیا ہے کہ حج لائسنس تین سال کے لیے جاری ہوں گے جبکہ کوٹہ کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔
کارٹل سازی اور اجارہ داری کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔نیا نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل کیا جائے گا اور حج بکنگ صرف پرائیویٹ حج مینجمنٹ پورٹل کے ذریعے ہوگی، جو نادرا اور اسٹیٹ بینک کے نظام سے منسلک ہوگا۔
پالیسی کے تحت دستی بکنگ اور کیش لین دین مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے، جبکہ حج کمپنیاں عازمین کے فنڈز اپنے پاس نہیں رکھ سکیں گی۔ سعودی سروس فراہم کنندگان کو ادائیگیاں براہِ راست اسٹیٹ بینک کے سرکاری اکاونٹ کے ذریعے کی جائیں گی۔وزارتِ مذہبی امور کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد شفافیت، احتساب اور حجاج کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے، جبکہ پاکستان کا پرائیویٹ حج نظام سعودی وڑن 2030 کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا رہا ہے۔
