علی بحرینی کے مطابق ورکنگ گروپس کی تشکیل پر اتفاق، 60 روز میں حتمی معاہدے کے روڈ میپ پر پیش رفت
جنیوا (الفجر آن لائن) جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر میں ایران کے مستقل نمائندے علی بحرینی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں“انتہائی اچھی پیش رفت”ہوئی ہے، جبکہ تکنیکی سطح پر بات چیت کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ علی بحرینی نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ آئندہ دنوں میں دو ورکنگ گروپس تشکیل دیے جائیں گے جو ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور اس کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق امور کا جائزہ لیں گے۔ان کے مطابق ایران اور امریکہ نے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاخ میں پاکستان اور قطر کی ثالثی کے ذریعے ہونے والی بات چیت کے دوران 60 دن کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک ابتدائی روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔ایرانی سفیر نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ان بیانات کو مسترد کیا جن میں کہا گیا تھا کہ منجمد ایرانی اثاثوں کے استعمال کی نگرانی امریکہ اور قطر کریں گے۔
علی بحرینی نے واضح کیا کہ“اثاثوں کے استعمال کا فیصلہ صرف ایران کرے گا”۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکہ نے یہ اثاثے منجمد کیے تھے اور ان میں سے کچھ قطر میں موجود ہیں، تاہم ان کے استعمال کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ یکطرفہ طور پر نہیں کیا جا سکتا۔علی بحرینی کے مطابق ایران کے منجمد اثاثے بنیادی طور پر تیل کی آمدنی اور مرکزی بینک کے ذخائر پر مشتمل ہیں، جو برسوں سے بین الاقوامی پابندیوں کے باعث بیرونِ ملک موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ فریقین کے درمیان تکنیکی انتظامات پر بات چیت ضروری ہے، لیکن ایران اپنے مالی وسائل پر خودمختار اختیار برقرار رکھے گا۔
