یوکرین( ویب ڈیسک) یوکرین کے دارالحکومت کیف پر روس کے حالیہ بڑے میزائل اور ڈرون حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 20 ہو گئی ہے جبکہ 85 سے زائد افراد شدید زخمی ہیں۔ عینی شاہدین اور مقامی حکام کے مطابق یہ حالیہ مہینوں میں کیف پر ہونے والا سب سے تباہ کن حملہ ہے جس نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس کی جانب سے 11 گھنٹے تک جاری رہنے والے اس مربوط حملے میں ہائپرسونک میزائلوں اور سینکڑوں ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جس نے شہر کے دفاعی نظام کو شدید مصلوب کیا۔
اس شدید بمباری کے نتیجے میں کیف کے 30 سے زائد مقامات بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جن میں کثیر المنزلہ رہائشی عمارتیں، ایک ایمبولینس اسٹیشن، مقامی ہوٹل اور تاریخی مقامات شامل ہیں۔ حملے کے خوف اور شدت کی وجہ سے 52 ہزار سے زائد شہریوں نے رات زیر زمین میٹرو اسٹیشنوں میں پناہ لے کر گزاری۔ کیف کے میئر ویٹالی کلیٹشکو نے ہلاک ہونے والے شہریوں کی یاد میں 3 جولائی کو شہر میں سرکاری طور پر یومِ سوگ کا اعلان کیا ہے، جبکہ ریسکیو ٹیمیں اب بھی ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ایک باضابطہ بیان میں واضح کیا ہے کہ روس اپنے فوجی اہداف کے حصول کے لیے یوکرینی حکومت پر دباؤ مزید بڑھائے گا۔ روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی یوکرین کی جانب سے روسی آئل ريفائنريز پر کیے گئے حالیہ ڈرون حملوں کا براہِ راست جواب ہے، جس کی وجہ سے روس کے اندر ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی۔ اس وحشیانہ حملے پر عالمی سطح پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر سمیت جرمن حکام نے اس کی سخت مذمت کی ہے، جبکہ یوکرین نے مغربی اتحادیوں سے پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی فوری فراہمی کا مطالبہ تیز کر دیا ہے
