تہران ( ویب ڈیسک)ایران کے سابق رہبرِ معظم آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت کو جمعرات کی رات تہران میں الوداعی تقریب کے لیے لایا گیا ہے، جہاں سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان ان کی ہفتہ بھر جاری رہنے والی ریاستی آخری رسومات کا آغاز ہو گیا ہے۔ فروری 2026 میں ان کے انتقال کے بعد سفارتی اور حفاظتی وجوہات کی بنا پر ان کی آخری رسومات میں چار ماہ کی تاخیر کی گئی تھی۔
سرکاری میڈیا کے مطابق، الوداعی تقریبات کا باقاعدہ آغاز جمعہ 3 جولائی سے تہران کے امام خمینی حسینیہ کے قریب ایک مخصوص مقام پر بین الاقوامی تعزیتی تقریب سے ہو رہا ہے، جس میں 30 سے زائد ممالک کے وفود اور اہم مذہبی شخصیات شرکت کر رہی ہیں۔ ہفتہ اور اتوار (4 اور 5 جولائی) کو تہران کے مصلائے امام خمینی میں عوام کے لیے آخری دیدار کا موقع فراہم کیا جائے گا، جس کے بعد پیر کو تہران کی سڑکوں پر مرکزی جنازہ نکالا جائے گا۔
آخری رسومات کے طے شدہ پروگرام کے تحت منگل 7 جولائی کو میت کو مقدس شہر قم لے جایا جائے گا، جہاں ایک بڑا عوامی سوگوار اجتماع متوقع ہے۔ بدھ کے روز ان کے جسدِ خاکی کو عراق منتقل کیا جائے گا جہاں بغداد، نجف اور کربلا کے مقدس مزارات پر اعزازی جلوس نکالے جائیں گے۔ تمام مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد جمعرات 9 جولائی کو آیت اللہ علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں امام رضا علیہ السلام کے روضہ مبارک میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

