صرف رقم منتقل کرنے کو جرم نہیں بنایا جا سکتا، بینک ملازم کو کیسے معلوم ہو سکتا ہے کہ گاڑی مستقبل میں کسی دھماکے میں استعمال ہو گی،عدالت
اسلام آباد(الفجرآن لائن)سپریم کورٹ نے بلوچستان لبریشن آرمی سے مبینہ تعلق کے الزام میں گرفتار بینک ملازم بلال کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد کر دی۔سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ صرف رقم منتقل کرنے کو جرم نہیں بنایا جا سکتا۔
بینک ملازم کو کیسے معلوم ہو سکتا ہے کہ گاڑی مستقبل میں کسی دھماکے میں استعمال ہو گی۔جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے منگل کو سماعت کی۔
عدالت کے سامنے بلال کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ بلال پر الزام ہے کہ اس کا تعلق کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی سے ہے۔دوران سماعت سرکاری وکیل نے عدالت سے مزید مہلت مانگتے ہوئے کہا کہ کیس سے متعلق مزید دستاویزات جمع کروانی ہیں اور وہ خودکش بمبار سے ملزم کے تعلق کے شواہد بھی پیش کریں گے۔
اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ "آپ بتائیں کہ بلال کا بی ایل اے سے کیا تعلق ہے؟
آپ نے ملزم کا بی ایل اے سے رابطہ کیسے جوڑ دیا؟”جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ ملزم ایک بینک کا ملازم تھا۔ صرف گاڑی کی رقم منتقل کرنا بینک ملازم کا جرم کیسے بن گیا۔
بینک مینیجر نے تو صرف رقم منتقل کی تھی۔ بینک آفیسر کو کیا معلوم کہ وہ گاڑی کسی دھماکے میں استعمال ہو گی۔عدالت نے پراسیکیوشن کی التوا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے بلال کی ضمانت منسوخی کی درخواست بھی خارج کر دی
واضع رہے کہ ملزم بلال کے خلاف سی ٹی ڈی کراچی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں اس پر الزام تھا کہ اس نے ایک گاڑی کی رقم منتقل کی جو بعد میں دھماکے میں استعمال ہوئی۔
عدالت نے قرار دیا کہ الزام ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد درکار ہیں اور محض پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کو دہشتگردی سے نہیں جوڑا جا سکتا

