وفاقی حکومت نے چار سالہ حج پالیسی کا اعلان کر دیاپہلی بار
رجسٹریشن اور ویٹنگ لسٹ کا طریقہ کار،10فیصد ادائیگی پر ابتدائی درخواست، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور شکایات کے فوری ازالے کا نظام متعارف
سرکاری اور نجی حج اسکیم کا کوٹہ بدستور 60 اور 40 فیصد رہے گا، وزیر مذہبی امور
اسلام آباد(الفجرآن لائن)وفاقی حکومت نے چار سالہ حج پالیسی کا اعلان کر دیا۔ نئی پالیسی کے تحت پہلی بار رجسٹریشن اور ویٹنگ لسٹ کا طریقہ کار، 10 فیصد ادائیگی پر ابتدائی درخواست، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور شکایات کے فوری ازالے کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا کہ اس پالیسی کا مقصد حج انتظامات کو شفاف، جدید اور عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔بدھ کووفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے چار سالہ حج پالیسی 2027 تا 2030 کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک طویل المدتی حج پالیسی ہے۔
جس کے ذریعے آئندہ چار برسوں کے حج انتظامات کو مستقل، منظم اور عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پالیسی وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایات اور سعودی ویژن 2030 سے ہم آہنگ تیار کی گئی ہے۔
وزیر مذہبی امور نے بتایا کہ پہلی مرتبہ رجسٹریشن اور ویٹنگ لسٹ کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے، جس کے تحت عازمین صرف 10 فیصد رقم جمع کرا کے اپنی درخواست رجسٹر کرا سکیں گے۔
اس نظام سے رہائش، ٹرانسپورٹ، خوراک اور دیگر انتظامات تین سے چار سال پہلے بہتر انداز میں مکمل کیے جا سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اور نجی حج اسکیم کا کوٹہ بدستور 60 اور 40 فیصد رہے گا، جبکہ نجی حج کمپنیوں کی رجسٹریشن، نگرانی اور اضافی کوٹہ صرف ان کی کارکردگی کی بنیاد پر دیا جائے گا۔
تمام خریداری پاکستان اور سعودی عرب میں شفاف انداز سے ہوگی اور واجبات کی ادائیگی کے بعد اگر کوئی رقم بچی تو وہ عازمین کو واپس کر دی جائے گی۔سردار محمد یوسف کے مطابق حج اخراجات ابتدائی طور پر 12 سے 13 لاکھ روپے تجویز کیے گئے ہیں، تاہم حتمی اخراجات میں حالات کے مطابق کمی یا اضافہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان کا مجموعی حج کوٹہ ایک لاکھ 79 ہزار 210 برقرار رکھا گیا ہے جبکہ حجاج محافظ اسکیم بھی آئندہ برقرار رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ عازمین کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام اور باقاعدہ اپیل کا طریقہ کار متعارف کرایا جا رہا ہے، جبکہ حج تربیتی پروگرام کو بھی مزید مثر بنایا جائے گا تاکہ عازمین کو بہتر سہولیات اور باوقار سفر فراہم کیا جا سکے

