نیویارک( الفجرآن لائن)سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی معاونت کے طریقۂ کار پر غور کے لیے تینوں ممالک کے اعلیٰ فوجی حکام کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق تینوں ممالک کے اعلیٰ فوجی حکام کے مجوزہ اجلاس میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی مدد کے ممکنہ طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
تاہم اجلاس کی حتمی تاریخ اور سعودی عرب کو فراہم کی جانے والی معاونت کی مخصوص نوعیت کے بارے میں فی الحال کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
اس پیش رفت سے قبل جمعرات کو نیویارک میں پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل
بن فرحان اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی اہم ملاقات ہوئی ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہوئی، جس میں تینوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے کے ادارہ جاتی ڈھانچے پر پیش رفت اور علاقائی و عالمی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
تینوں ممالک نے 7 اگست 2026 کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
معاہدے کے تحت تینوں ممالک دفاعی تعاون اور مشترکہ سلامتی کے لیے ادارہ جاتی طریقۂ کار بھی تشکیل دے رہے ہیں۔
حالیہ ملاقات میں تینوں وزرائے خارجہ نے سعودی عرب میں مکہ مکرمہ سمیت شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی
مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی ساتھ ہی بین الاقوامی قوانین، ریاستی خودمختاری، اچھے ہمسایہ تعلقات اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں تیز ہوئی ہیں جب سعودی حکام کے مطابق 24 ستمبر کو یمن سے سعودی عرب کی جانب داغے گئے چھ بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا گیا۔
دوسری جانب حوثیوں نے ریاض اور سعودی عرب میں بعض اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے کیے ہیں۔
تینوں ممالک کے فوجی حکام کا آئندہ اجلاس مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے عملی طریقۂ کار اور سعودی عرب کی معاونت کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے،
تاہم اجلاس کے نتائج سامنے آنے تک کسی مخصوص فوجی کارروائی یا تعیناتی کے بارے میں حتمی دعویٰ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

