وزیراعلیٰ بلوچستان کا اظہارِ مسرت اور اہم اعلان
کوئٹہ (ویب ڈیسک، 25 ستمبر 2026): بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور اس کے گردونواح کے شہریوں کے لیے ایک بڑی اور خوش آئند خبر سامنے آئی ہے۔ صوبے کی تاریخ کی پہلی ماس ٹرانزٹ ٹرین، "جناح پیپلز ٹرین” عوام کی خدمت کے لیے مکمل طور پر تیار کر لی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت کچلاک سے سریاب تک پھیلے ہوئے طویل ریلوے ٹریک کی اپ گریڈیشن کا کام کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے، جس کے بعد اب ٹرین سروس کا باقاعدہ آغاز جلد ہی کر دیا جائے گا۔
محکمہ ریلوے اور صوبائی حکومت کی مشترکہ کوششوں سے جناح پیپلز ٹرین کے لیے 32 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کی اپ گریڈیشن کا یہ اہم منصوبہ صرف 120 روز (4 ماہ) کی ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا ہے۔ تیز رفتار تعمیراتی کام کے حامل اس منصوبے پر مجموعی طور پر 3 ارب روپے کی لاگت آئی ہے۔ حکام کے مطابق ٹریک کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے تاکہ ٹرین کی آمد و رفت کو محفوظ اور بلاتعطل بنایا جا سکے۔
جناح پیپلز ٹرین کا روٹ کوئٹہ شہر اور اس کے مضافات کو آپس میں جوڑے گا۔ کچلاک سے شروع ہو کر سریاب پر ختم ہونے والے اس 32 کلومیٹر کے سفر کے دوران مجموعی طور پر 7 اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔ ان اسٹیشنز میں درج ذیل علاقے شامل ہیں:
- کچلاک
- بلیلی
- شیخ ماندا
- جی او آر (GOR)
- کوئٹہ سینٹرل
- لور کاریز
- سریاب
ان اسٹیشنز کے قیام سے ان علاقوں کے رہائشیوں کو اپنے قریبی مقام سے ٹرین میں سوار ہونے کی سہولت میسر آئے گی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جناح پیپلز ٹرین منصوبے کی کامیاب اور بروقت تکمیل پر شدید مسرت کا اظہار کرتے ہوئے اسے صوبے کے عوام کے لیے ایک بڑا تحفہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس جدید ٹرین سروس کو بہت جلد عام شہریوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ عوامی سہولیات کے منصوبوں کی بروقت تکمیل صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اب ان ترقیاتی کاموں کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔
میر سرفراز بگٹی نے منصوبے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جناح پیپلز ٹرین کوئٹہ اور گردونواح کے شہریوں کو ایک محفوظ، آرام دہ اور کم خرچ سفری سہولت فراہم کرے گی۔ اس سروس کے آغاز سے روزمرہ سفر کرنے والے طلبہ، سرکاری و نجی ملازمین، کاروباری افراد اور عام شہریوں کو شدید سفری مشکلات سے نجات ملے گی۔ جدید سفری سہولیات کی وجہ سے نہ صرف شہریوں کے وقت کی بچت ہوگی بلکہ ان کے روزانہ کے سفری اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی، جو موجودہ معاشی حالات میں عوام کے لیے ایک بڑا ریلیف ہے۔

