کوئٹہ (الفجرآن لائن): حکومت بلوچستان اور پاکستان کسان اتحاد کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہو گئے ہیں۔ بلوچستان حکومت کی خصوصی درخواست اور مطالبات کی منظوری کی یقین دہانی پر پاکستان کسان اتحاد نے اسلام آباد کی جانب مجوزہ لانگ مارچ اور دھرنا عارضی طور پر موخر کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون بابر یوسفزئی کے مطابق، صوبائی وزیر علی مدد جتک کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کے حکومتی وفد نے پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی صدر خالد بھٹ سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس اہم اور فیصلہ کن بیٹھک میں رکن صوبائی اسمبلی میر جہانزیب مینگل بھی شریک تھے، جہاں کسانوں کو درپیش مسائل اور ان کے مطالبات پر ہمدردانہ غور کیا گیا۔
بابر یوسفزئی نے بتایا کہ حکومتی وفد نے کسان اتحاد کے صدر خالد بھٹ کو کسان برادری کے تمام جائز مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی پختہ یقین دہانی کرائی۔ بلوچستان حکومت کی سنجیدگی اور مخلصانہ درخواست کو قبول کرتے ہوئے، کسان اتحاد کے صدر نے لانگ مارچ اور دھرنا موخر کرنے کا فیصلہ کیا۔ کسان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ملک کے موجودہ حالات اور امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر انہوں نے احتجاجی مارچ کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ملکی مفاد کو نقصان نہ پہنچے۔
معاون برائے محکمہ داخلہ بابر یوسفزئی نے اس پیش رفت کو انتہائی مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان اور کسان اتحاد کے مابین یہ مذاکرات صوبے میں امن اور خوشحالی کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں صوبائی حکومت کسانوں کے مسائل سے پوری طرح آگاہ ہے اور کسان برادری کے جائز حقوق اور مطالبات کے عملی حل کے لیے انتہائی سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ مذاکرات کے اختتام پر کسان اتحاد کے صدر خالد بھٹ نے حکومتی وفد کو اپنے مکمل تعاون کا یقین بھی دلایا

